حافظ عبدالغفار روپڑی
کائنات کا نظامِ عدل و قسط اللہ رب العزت کی صفتِ رحمانیت کا مظہر ہے، جہاں دولت کا بہاؤ خون کی گردش کی مانند معاشرے کے تمام طبقات میں متوازن اور منصفانہ انداز میں ہونا چاہیے۔ لیکن جب انسانی دلوں سے خوفِ خدا رخصت ہو جائے اور حرص و طمع کا غلبہ ہو جائے تو "سود" (ربا) جیسا ظالمانہ نظام جنم لیتا ہے۔ سود محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک ایسا معاشی جرم ہے جو امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بناتا ہے۔ یہ محنت کے بغیر دولت کے ارتکاز کو فروغ دیتا اور معاشرے کے اجتماعی سکون کو غارت کر دیتا ہے۔ علم و ادب کی زبان میں سود وہ زہرِ ہلاہل ہے جو بظاہر شیریں محسوس ہوتا ہے مگر اس کی تاثیر پورے معاشی اور سماجی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے۔قرآنِ مجید نے سود کی ممانعت کو جس شدت اور جلال کے ساتھ بیان کیا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے گناہ کے بارے میں کم ہی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔" (البقرہ: 278-279)سوچنے کا مقام ہے کہ جس نظام کے خلاف کائنات کا مالک خود اعلانِ جنگ فرما رہا ہو، وہ نظام انسانیت کے لیے خیر اور فلاح کا ضامن کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (البقرہ: 276)یہ قرآنی حقیقت ہے کہ سود بظاہر کتنا ہی نفع بخش دکھائی دے، اس میں برکت نہیں ہوتی، جبکہ صدقہ، خیرات اور حلال تجارت معاشرے میں حقیقی خوشحالی پیدا کرتے ہیں۔رسول اللہ نے بھی سود کی قباحت کو انتہائی سخت الفاظ میں بیان فرمایا۔ حجتہ الوداع کے تاریخی خطبے میں آپ نے سب سے پہلے اپنے خاندان کے سود کو ختم کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ جاہلیت کا ہر سود باطل ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی گئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
"سود کے ستر درجے ہیں، جن میں سب سے کم درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔"
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا:
"سود خواہ کتنا ہی زیادہ ہو جائے، اس کا انجام کمی اور محتاجی ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ سودی نظام اخلاقی زوال، روحانی تباہی اور معاشی بربادی کا سرچشمہ ہے۔
پاکستان جو "لا الٰہ الا اللہ" کے مقدس نام پر قائم ہوا تھا، افسوس کہ آج تک اسی سودی معاشی نظام کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے جس کے خلاف اسلام نے اعلانِ جنگ کیا۔ کئی دہائیوں سے ہم عالمی مالیاتی اداروں اور بیرونی قرضوں کے سہارے معیشت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور معاشی غلامی میں اضافہ ہوا ہے۔
مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ اس تلخ حقیقت کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ تقریباً 18 ہزار 771 ارب روپے کے اس بجٹ میں قریب 8 ہزار ارب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو مجموعی بجٹ کا تقریباً 43 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، زراعت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے کے بجائے سودی قرضوں کی نذر ہو رہا ہے۔ہم نئے قرضے لیتے ہیں تاکہ پرانے قرضوں کا سود ادا کر سکیں اور یوں ملک ایک ایسے لامتناہی قرضوں کے چکر میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنے کی کوئی آسان صورت دکھائی نہیں دیتی۔ 2026,27 کا یہ بجٹ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ سودی نظام معیشت کو سہارا نہیں دیتا بلکہ اسے مزید کمزور اور محتاج بناتا ہے۔جس قومی اسمبلی نے یہ بجٹ منظور کیا، اس میں تقریباً تمام اراکین مسلمان ہیں، لیکن افسوس کہ سودی نظام کے خلاف کوئی مؤثر اور بھرپور آواز سنائی نہ دی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بنیادی مسئلے کی جانب جس شخصیت نے دوٹوک انداز میں توجہ دلائی، وہ ایک غیر مسلم رکنِ قومی اسمبلی دنیش کمار تھے۔ انہوں نے کہا:ہم اپنے بجٹ کا تقریباً نصف حصہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ میں خرچ کر رہے ہیں۔"
انہوں نے سودی قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کو قومی معیشت کے لیے نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ روش ملک کو مزید معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا دے گی۔ یہ حقیقت اہلِ اقتدار اور پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جس مسئلے کو قرآنِ مجید نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا ہے، اس پر ایک غیر مسلم رکنِ اسمبلی تو آواز بلند کرے لیکن مسلمان نمائندوں کی اکثریت خاموش دکھائی دے۔ یہ خاموشی اس امر کی متقاضی ہے کہ سودی نظام کے تباہ کن اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور اسلامی معاشی اصولوں کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ان حالات میں پاکستان کے معاشی استحکام کا واحد راستہ اسلامی مالیاتی نظام کا نفاذ ہے۔ اسلامی معیشت سرمائے کو جمود کے بجائے گردش میں لاتی ہے اور نفع و نقصان میں شراکت داری کو فروغ دیتی ہے۔ مضاربت اور مشارکت کا نظام حقیقی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ سودی نظام میں تمام بوجھ مقروض پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اسی طرح زکوٰۃ و عشر کا مؤثر نظام دولت کے ارتکاز کو روکتا اور اسے معاشرے کے ضرورت مند طبقات تک منتقل کرتا ہے۔ اگر زکوٰۃ اور عشر کا نظام صحیح معنوں میں نافذ ہو جائے تو غربت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسلام قرضِ حسنہ کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کی مدد بغیر کسی استحصال کے کی جاتی ہے۔وفاقی شرعی عدالت بھی سود کے خلاف واضح اور تاریخی فیصلے دے چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فیصلوں پر مکمل اور فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ ملک کو سودی معیشت کے چنگل سے نجات دلائی جا سکے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے حکمران، ماہرینِ معیشت، پارلیمنٹ اور عوام اس حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر کے کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سودی نظام نے ہمیں معاشی طور پر کمزور، قرضوں کا محتاج اور بیرونی طاقتوں کا دست نگر بنا دیا ہے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات سودی معیشت بھی ایک ایسی ہی بے رحم مشین ہے جو غریبوں کا خون نچوڑ کر سرمایہ داروں کی تجوریاں بھرتی ہے۔ پاکستان کی بقا، سلامتی اور معاشی خودمختاری کا دارومدار سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی اصولوں پر مبنی عادلانہ معاشی نظام کے قیام میں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم سودی نظام کے خلاف آواز بلند کرے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، خودمختار اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔