معاشرت اور معیشت اور اخلاقی دیوالیہ پن

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

 پاکستان کا قیام جب عمل میں لایا گیا تو اُص وقت ایک ہی مطالبہ تھا  کہ پاکستان میں قران و سنت کا نظام نافذ کیا جائے گا۔  لیکن  آٹھ دہائیاں ہونیکو آئی ہیں۔ حکمران اشرافیہ نے ستانوے فیصد عوام کو یر غمال بنا رکھا ہے۔  جب کسی معاشرے میں بددیانتی، رشوت، اور حرام خوری عام ہو جائے تو وہ معاشرہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر انصاف کا فقدان ہو اور حکام عوام کی فلاح کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیں تو وہ معاشرتی فساد کا سبب بنتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت یہ مسائل اپنے عروج پر ہیں اور ان کے اثرات پورے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ معاشرتی انصاف کی کمی، حکومتی اداروں میں بدعنوانی، اور عوامی وسائل کا غلط استعمال اس بات کا غماز ہے کہ ملک کو ایک مضبوط اور ایماندار حکومت کی ضرورت ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بددیانتی، رشوت اور ظلم کے خلاف سخت الفاظ میں منع کیا ہے:''جو لوگ لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں وہ بے شک بڑا ظلم کرتے ہیں۔'' (سورۃ آل عمران، 3: 161)یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے حاصل کرنا اور ان کے حقوق کی پامالی کرنا اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ اسلام میں معاشرتی انصاف کا قیام اور برابری کا پرچار کیا گیا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکمرانوں کو خود کو بددیانتی سے بچانا ضروری ہے۔حضرت محمد ﷺ نے بھی بددیانتی اور رشوت کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:''جو شخص رشوت لیتا ہے اور جسے رشوت دی جاتی ہے دونوں جہنم کی آگ میں ہیں۔''
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رشوت کی تمام صورتیں قابلِ نفرت اور حرام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ سکھایا کہ حکمرانوں کو عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔
قدیم معاشروں میں بھی رشوت اور بددیانتی کے اثرات نمایاں تھے، اور ان کی مثالیں ہمیں مختلف تہذیبوں میں ملتی ہیں۔ یونان کی ایتھینز کی جمہوریت میں بھی رشوت اور بددیانتی کی موجودگی نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ ارسطو نے کہا تھا، ''رشوت کے ذریعے حاصل کی گئی دولت معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اور یہ ریاست کی بنیاد کو ہلا دیتی ہے۔'' یہ حقیقت آج پاکستان میں بھی موجود ہے، جہاں حکومتی ادارے اور عوامی سروسز میں انصاف کی کمی ہے۔رومانیہ میں چاؤشسکو کی حکومت نے بھی بدعنوانی کے ذریعے اپنے عہدے کو مضبوط کیا، مگر بالآخر عوامی غصے کے نتیجے میں 1989 میں انقلاب آیا۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں عوام بدعنوان حکومتوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں لیکن کوئی ٹھوس اقدامات نہیں ہو رہے۔
 افلاطون نے کہا تھا، ''عدل ریاست کی بقا کا ضامن ہے، اور جب ناانصافی عام ہو جائے تو معاشرہ زوال پذیر ہو جاتا ہے۔'' اس بات کی گہرائی پاکستان میں بددیانتی کی بڑھتی ہوئی سطح میں صاف نظر آتی ہے، جہاں حکومتی اہلکار عوام کے اعتماد کو کھو چکے ہیں۔ ارسطو کا کہنا تھا، ''رشوت ریاست کے قوانین کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اور معاشرتی بدحالی کا سبب بنتی ہے۔'' پاکستان میں جب کرپشن بڑھتی ہے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور معاشرتی و اقتصادی ترقی رک جاتی ہے۔ سقراط نے رشوت کو سماج کی روح کے لیے زہر قرار دیا، ''رشوت وہ زہر ہے جو سماج کی روح کو مار دیتا ہے''۔ پاکستان میں بدعنوانی نے اس قدر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں کہ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔چانکیہ نے کہا: ''جب حکمران خود بددیانت ہو جائے تو رعایا کے لیے ایمانداری بوجھ بن جاتی ہے۔'' پاکستان میں یہ سچائی ہے کہ جب حکومتی اہلکار بددیانت ہوں تو عوام کے لیے انصاف کی باتیں صرف نعرے بن کر رہ جاتی ہیں۔ کنفیوشس نے کہا: ''ایماندار حکومت ہی وہ روشنی ہے جو عوام کو ترقی کی راہ دکھاتی ہے۔'' پاکستان میں اگر حکومتی سطح پر ایمانداری اور انصاف کو فروغ دیا جائے تو معاشرتی بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔ جان لاک کا کہنا تھا: ''حکومت عوام کے اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اور جب یہ اعتماد ٹوٹ جائے تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔'' پاکستان میں بددیانتی کی موجودگی کی وجہ سے عوام کا حکومت پر سے اعتماد کم ہو رہا ہے۔ژاں ژاک روسو نے کہا: ''حکومت کا سب سے بڑا فریضہ عوام کی خدمت ہے، اور اگر وہ عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتی تو اس حکومت کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔'' پاکستان میں بدعنوانی کے اثرات عوامی حقوق کی پامالی کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ تھامس ہابز نے کہا: ''اگر حکمران ناانصافی کو فروغ دیں، تو ریاست جنگل کے قانون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔'' پاکستان میں بدعنوانی نے پورے ریاستی نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نکولو میکاولی کا کہنا تھا: ''ایمانداری اور سیاست اکثر ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں، لیکن جب حکمران دیانت دار ہوں تو ریاست مضبوط ہو جاتی ہے۔'' پاکستان میں بددیانتی کی وجہ سے سیاست اور حکومتی نظام کا اخلاقی اعتبار متاثر ہو چکا ہے۔ ایڈم اسمتھ نے کہا: ''بدعنوانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہے۔'' پاکستان کی معیشت بدعنوانی کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے اور اس کی بحالی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔
پاکستان میں بددیانتی اور رشوت ستانی کی موجودگی نے پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ حکومتی اہلکاروں کی بدعنوانی کی وجہ سے عوامی وسائل کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا اور عوام کا حکومت پر اعتماد کم ہو چکا ہے۔ محکمہ پولیس، الیکشن کمیشن، اور دیگر ریاستی ادارے کرپشن کا شکار ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کا ان اداروں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
تاریخ اور فلسفہ سے حاصل کردہ سبق یہ ہے کہ بددیانتی اور رشوت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب حکومتی سطح پر ایمانداری اور احتساب کو فروغ دیا جائے۔ اگر حکمران عوام کے حقوق کا تحفظ کریں اور اپنی ذاتی مفادات کو ترک کر کے قوم کے مفاد میں کام کریں، تو معاشرتی بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قول ''اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو میں اس کا جواب دہ ہوں'' ہمیں بتاتا ہے کہ حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو، تو معاشرتی انصاف قائم ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر حکومتی سطح پر ایمانداری اور انصاف کو فروغ دیا جائے، تو رشوت اور بددیانتی کے خاتمے کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔پاکستان میں رشوت، بددیانتی اور حرام خوری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے کردار کو بہتر بنائے، حکومتی اداروں میں اصلاحات کی جائیں اور معاشرتی انصاف کو فروغ دیا جائے۔ جب ہر فرد اپنی ذاتی و اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھے گا، تو معاشرتی بہتری ممکن ہو گی اور پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال معاشرتی نظام کی جانب بڑھ سکے گا۔