ترکی سے کشمیر تک — سیاحت، معیشت اور ثقافت

شمائلہ صدیقی
میرا حالیہ سفر ترکی کا تھا، اور یہ ترکی جانے کا میرا ساتواں موقع تھا۔ ہر بار یہ ملک مجھے ایک نئے رخ سے متاثر کرتا ہے۔ ترکی اپنی ہزاروں سال پرانی تاریخ، عظیم تہذیب اور شاندار ثقافت کا امین ہے۔ بیزنطینی دور سے لے کر خلافتِ عثمانیہ تک، اور پھر جدید جمہوریہ ترکی کی تشکیل تک، یہ خطہ ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ استنبول جیسا شہر، جو ایک زمانے میں قسطنطنیہ کہلاتا تھا، آج بھی مشرق اور مغرب کے ملاپ کی بہترین مثال ہے۔

موجودہ ترکی معاشی مشکلات کا شکار ہے، مہنگائی عام آدمی کو متاثر کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی محنت اور اپنے شعبوں کے ساتھ وابستگی تھی۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری۔ وہ اپنی معاشی مشکلات کے باوجود اسے بھرپور انداز میں سنبھالے ہوئے ہیں۔

مجھے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے وفد کے ساتھ استنبول فیشن کنیکٹ ایکسپو میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ ایک شاندار عالمی ایونٹ تھا جس میں دنیا بھر سے کاروباری وفود کو مدعو کیا گیا۔ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں قیام، بہترین سفری سہولیات، اور اپنی مصنوعات کو جدید اور پْرکشش انداز میں پیش کرنا، ترک صنعتکاروں کا اعتماد اور وڑن ظاہر کرتا تھا۔ وہ اپنے ٹیکسٹائل، فیشن اور ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے ایک برانڈ کے طور پر متعارف کرا رہے تھے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو ہم بھی اپنا سکتے ہیں، اگر ہم عزم اور وڑن کے ساتھ آگے بڑھیں۔

اس موقع پر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ پاکستان، خاص طور پر آزاد کشمیر، کے پاس بھی بے پناہ وسائل اور مواقع موجود ہیں، لیکن ہم ان کو دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے کشمیر کو صرف مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں دیکھا اور پیش کیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کا مثبت پہلو، اس کی ثقافت، زبان، روایتی کھانے، دستکاری، ملبوسات اور زیورات ہم نے دنیا سے چھپا دیے۔

کشمیر کی وادیاں، جھیلیں اور پہاڑ اپنی قدرتی خوبصورتی میں بے مثال ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر کشمیری ثقافت اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ کشمیری لباس ترکی، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیائی دنیا میں اپنی انفرادیت کے باعث بہت مقبول ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کشمیری کھانے، پکوان اور دستکاریاں اگر عالمی سطح پر پیش کی جائیں تو ایک نئی پہچان بنا سکتی ہیں۔ یہ صرف سیاحت کو نہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی ایک نئی زندگی دے گا۔

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کشمیر کے مثبت پہلو کو دنیا کے سامنے نہیں رکھا۔ ہم نے ہمیشہ صرف دکھ اور تنازعے کو اجاگر کیا اور خوبصورتی، ثقافت اور ورثے کو نظرانداز کر دیا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم کشمیر کو ایک نئے، مثبت اور عالمی انداز میں متعارف کروائیں۔

جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
‘‘وَ?ِن تَعْدّْوا نِع?مَتَ ?للَّ?ِ لَا تْح?صْو?َا ? ?ِنَّ ?للَّ?َ لَغَفْور?? رَّحِ?م??’’ (النحل: 18)
ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔

کشمیر اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور وقت ہے کہ ہم اس نعمت کو دنیا کے سامنے ایک مثبت اور تعمیری پہلو کے ساتھ پیش کریں۔

ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے اپنی معاشی مشکلات کے باوجود اپنے ثقافتی ورثے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سنبھالا اور دنیا کے سامنے اعتماد کے ساتھ پیش کیا۔ یہی راستہ ہم بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ کشمیر صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور معاشی اثاثہ ہے۔ اگر ہم اس کی مثبت شناخت کو دنیا میں اجاگر کریں، تو نہ صرف پاکستان کا تشخص بہتر ہوگا بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کشمیر کو صرف تنازع کے تناظر میں دیکھتے رہیں یا پھر اسے دنیا کے سامنے ایک حسین، مثبت اور تعمیری پہچان کے ساتھ پیش کریں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسرا راستہ اختیار کریں۔