علی عمران
پاکستان کی معیشت آج ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں مہنگائی، بیروزگاری، سیاسی عدم استحکام اور کمزور ادارہ جاتی ڈھانچہ عوامی زندگی کو بدترین مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔ اشیائے خوردونوش سے لے کر ایندھن تک ہر چیز کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث عوام کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ ایک عام آدمی جو کبھی تنخواہ یا روزانہ کی آمدن سے گھر کا بجٹ آسانی سے چلاتا تھا، اب اس کے لیے بچوں کی تعلیم، صحت، اور بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔مہنگائی کا یہ طوفان صرف مقامی پیداوار کی کمی یا عالمی منڈیوں کی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی کمزور معاشی پالیسیاں، مسلسل بڑھتے ہوئے قرضے، درآمدی انحصار اور شرح تبادلہ میں گراوٹ ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل کمزوری نے نہ صرف درآمدی اشیاء بلکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کی لاگت بھی بڑھا دی ہے۔ صنعتکار خام مال مہنگا خریدنے پر مجبور ہیں، نتیجتاً وہ قیمتوں میں اضافہ کر کے بوجھ صارف پر ڈال دیتے ہیں۔ یوں یہ ایک ایسا دائرہ بن چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔دوسری طرف روزگار کے مواقع تیزی سے سکڑتے جا رہے ہیں۔ بے شمار چھوٹے کاروبار سرمایہ کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث بند ہو چکے ہیں جبکہ بڑے صنعتکار بھی غیر یقینی حالات کے سبب نئی سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ جب سرمایہ کاری رْک جاتی ہے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوتے اور موجودہ ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگاری کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں اور بیرون ملک ہجرت کرنے کو ہی اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو اس دلدل میں دھکیلنے میں سب سے بڑا کردار سیاسی عدم استحکام کا ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونا، ہر چند سال بعد حکومت کی تبدیلی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کھینچا تانی نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ کسی بھی معیشت کے استحکام کے لیے سیاسی سکون بنیادی شرط ہوتا ہے لیکن پاکستان میں یہ ہمیشہ نایاب رہا ہے۔ سرمایہ کار جب دیکھتے ہیں کہ ایک حکومت پالیسی بناتی ہے اور دوسری آ کر اسے ختم کر دیتی ہے، تو وہ سرمایہ لگانے کے بجائے رقم محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے، روزگار کے مواقع سکڑ جاتے ہیں اور معیشت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔توانائی بحران بھی پاکستان کی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صنعت اور زراعت دونوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ کارخانے مہنگی توانائی کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں یا اپنی پیداوار کم کر رہے ہیں جس کے باعث برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ جب برآمدات کم ہوں اور درآمدات بڑھیں تو تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور یہی خسارہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتا ہے۔ موجودہ وقت میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر محدود ہیں اور یہ صورتحال قرضوں کے بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔قرضوں کا مسئلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ ملک ہر سال اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی قسطوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ کرتا ہے جس کے بعد تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال عوامی مشکلات کو مزید بڑھاتی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف سے قرض لینا وقتی سہارا ضرور دیتا ہے مگر اس کے ساتھ سخت شرائط بھی آتی ہیں جن میں ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ اس طرح عام آدمی پر براہِ راست بوجھ پڑتا ہے۔پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کئی بنیادی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے سیاسی استحکام لانا ناگزیر ہے۔ جب تک سیاست دان ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے نہیں کریں گے، تب تک معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد ملے اور وہ طویل المدتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں۔دوسرا بڑا قدم معیشت کو پیداواری بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی کمی، پانی کے مسائل اور حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے زراعت اپنی صلاحیت کے مطابق پیداوار نہیں دے پا رہی۔ اگر زراعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو نہ صرف خوراک میں خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح صنعت کے شعبے میں توانائی کے مسائل حل کرنے، جدید مشینری کے استعمال اور مقامی سطح پر خام مال کی تیاری پر توجہ دینی ہوگی تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور برآمدی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔ ٹیکس اصلاحات ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ بہت محدود ہے اور زیادہ تر بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا جاتا ہے جبکہ بڑے زمیندار اور طاقتور طبقات ٹیکس دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر ٹیکس نظام کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل بڑھ سکتے ہیں۔ تعلیم اور ہنر کی فراہمی ہے۔ نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور ہنر دیا جائے تاکہ وہ نہ صرف مقامی صنعت میں روزگار حاصل کر سکیں بلکہ بیرون ملک بھی اپنے ہنر کے ذریعے کثیر زرمبادلہ ملک میں لا سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف بجلی کی قلت ختم ہو سکتی ہے بلکہ پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔پاکستان کے لیے ایک اور بڑا موقع بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ وہ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں جو معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر حکومت ان کے لیے سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع فراہم کرے تو یہ ترسیلات مزید بڑھ سکتی ہیں اور معیشت کو سنبھالا دے سکتی ہیں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال ایک کڑے امتحان کی مانند ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے صرف وقتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ طویل المدتی اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی استحکام قائم کیا جائے، معیشت کو پیداواری بنیادوں پر کھڑا کیا جائے، ٹیکس نظام بہتر بنایا جائے، تعلیم و ہنر پر توجہ دی جائے اور توانائی بحران کا حل نکالا جائے تو پاکستان ایک مضبوط اور خودمختار معیشت بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ مشکلات بڑھتی جائیں گی اور عوام کی زندگی مزید مشکل ہوتی جائے گی۔