ایران پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے نے نہ صرف عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کو بھی ایک سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ حملہ محض دو ممالک کے درمیان تنازعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سازش کی کڑی ہے، جس کا ہدف پورا مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا ہے۔ ایسے نازک موقع پر پاکستان نے جو مؤقف اپنایا، وہ قابلِ ستائش، دوٹوک اور امت مسلمہ کی حقیقی ترجمانی ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی جانب سے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ نہ صرف ایک سفارتی قدم ہے بلکہ ایک دلیرانہ اسلامی فریضے کی ادائیگی بھی ہے۔ ان کا بیان کہ اسرائیل کا غیرذمہ دارانہ اقدام خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے ایک حقیقت پر مبنی فریاد ہے، جس کی بازگشت اب عالمی سطح پر بھی سنائی دے رہی ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس حملے کے تناظر میں غیر مبہم، جرات مندانہ اور انصاف پر مبنی ہے۔ پاکستان نے واضح طور پر ایران سے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یہ پیغام دے دیا کہ جب بات امت کے اتحاد، خودمختاری اور اسلامی وقار کی آئے گی، تو پاکستان کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔ یہ دوستی، یہ بھائی چارہ محض سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایرانی قوم کے لیے عزت اور محبت رچی بسی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسرائیل کا یہ اقدام کھلی جارحیت اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی خاموشی اور مغربی قوتوں کا دوہرا معیار دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وہی طاقتیں جو یوکرین کے معاملے پر امن کی دہائی دیتی ہیں، فلسطین و ایران پر ہونے والی صیہونی درندگی پر لب سی لیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک مجرمانہ خاموشی ہے، جس کا نتیجہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان نے جہاں ایران سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا، وہیں عالم اسلام کو بھی جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطالبے کی روح صرف مذمت نہیں، بلکہ مسلم اْمہ کی بیداری کا اعلان بھی ہے۔ آج جب امت مسلمہ انتشار، نفاق اور فرقہ واریت کے زہر میں مبتلا ہے، دشمنانِ اسلام اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ایک ایک کر کے اسلامی ریاستوں کو عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں۔ عراق، شام، لیبیا، یمن، فلسطین کے بعد اب ایران کی باری ہے۔
یہ لمحہ فکریہ ہے اگر آج بھی مسلم ممالک خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو کل نوبت ان کے دروازوں تک بھی آ پہنچے گی۔ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو متحرک کرے، مسلم ممالک کو یکجا کرے اور عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اجتماعی حکمت عملی اختیار کرے۔
اسرائیل کی یہ کارستانی صرف ایران کے خلاف نہیں، بلکہ یہ پورے اسلامی تشخص پر حملہ ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو تقسیم کرنا، باہمی جنگوں میں الجھانا اور اسرائیلی تسلط کو وسعت دینا ہے۔ پاکستان جیسے ایٹمی طاقت کے حامل ملک کا فرض ہے کہ وہ اپنے الفاظ، سفارت، اور عمل سے بھی امت کی ڈھال بنے۔
ایران سے پاکستان کے تعلقات محض ہمسائیگی یا جغرافیائی مجبوری پر مبنی نہیں، بلکہ تاریخی، تہذیبی، دینی اور انقلابی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ آزمائش کی گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے بھی اس حملے پر غم و غصہ اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا سے لیکر مساجد کے خطبات تک، ہر جگہ ایران کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت گونج رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت اپنی پالیسی کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھائے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر اسرائیل کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جائے، فلسطین و ایران سمیت ہر مظلوم مسلمان کے لیے پاکستان امید کی کرن بنے۔
یہ وقت اتحاد، ہمدردی اور بیداری کا ہے۔ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ہمیں ایک ہو کر دشمن کو پیغام دینا ہو گا کہ ہم ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر ایک عضو پر چوٹ آئے تو پورا جسم تڑپتا ہے۔ یہی پیغام پاکستان نے دنیا کو دیا ہے، اور یہی جذبہ ہمیں امت کی عظمت کی طرف لے جا سکتا ہے۔