خاموش سفارت کاری کی پسِ پردہ کہانی

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ایران کایہ لچکداررویہ بظاہرایک پسپائی لگ سکتاہے،مگردرحقیقت یہ ایک حکمت عملی ہے۔یہ وہی اصول ہے جوجنگوں میں بھی استعمال ہوتاہے ،کبھی پیچھے ہٹنا،آگے بڑھنے کی تیاری ہوتاہے۔یہ تبدیلی معمولی نہیں۔ایران،جوماضی میں ہرمسئلے کوایک ہی لڑی میں پروتاتھا،اب اس بات پرآمادہ ہے کہ ہرمسئلے کواس کے اپنے دائرے میں حل کیاجائے۔یہ ایک فکری ارتقاہے،ایک ایسی پختگی جو صرف تجربات کی بھٹی میں جل کرحاصل ہوتی ہے۔
دوسری تہہ امریکی تھنک ٹینکس کی سوچ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ’اوپن فاراوپن‘ جیسے فارمولے کوسنجیدگی سے لیاجارہاہے جودراصل ایک عملی حقیقت پسندی کامظہرہے۔ امریکاکیلئے توانائی کی قیمتیں ایک سیاسی مسئلہ ہیں۔انتخابات قریب ہوں،توپٹرول کی قیمت بھی ایک بیلٹ پیپربن جاتی ہے۔ایران کوتیل بیچناہے،امریکاکوقیمتیں کم کرنی ہیںضرورت دونوں کی ایک ہے،اگرچہ انادونوں کی الگ ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں مفاد،نظریے پرغالب آجاتاہے۔سی ایس آئی ایس کاتجزیہ اورمتناقضی توازن کاتصوراس کشمکش کی اصل روح کوبیان کرتاہے جوہمیں یہ سمجھاتاہے کہ طاقت صرف فوجی برتری کانام نہیں،بلکہ برداشت،صبر،اور حکمت عملی کابھی نام ہے۔ایران یہاں ایک مختلف اندازکی طاقت کامظاہرہ کر رہا ہے۔ایران دباؤڈال رہاہے،امریکااس دباؤکاجواب دے رہاہے،مگردونوں جانتے ہیں کہ یہ کھیل لامتناہی نہیں ہوسکتا۔یہاں صبرایک ہتھیار ہے، اورایران اس ہتھیارکوزیادہ مہارت سے استعمال کررہاہے۔
ایران کے پاس وسائل کم ہیں،مگرصبرزیادہ ہے۔یہی تضاداس پورے بحران کامرکزی نکتہ ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاںٹرمپ کارڈکمزور پڑتادکھائی دیتاہے۔امریکاکے پاس وسائل زیادہ ہیں،مگروقت کم ہے۔طاقت صرف وسائل کانام نہیں،برداشت کابھی نام ہے۔امریکی عوام مہنگائی کوزیادہ دیربرداشت نہیں کرسکتے،جبکہ ایران کے پاس وسائل کم ہیں،مگر اس کی تاریخ صبرواستقلال سے عبارت ہے۔یہی تضاد اس پورے بحران کامرکزی نکتہ ہے اوریہی اہم فرق اس شطرنجی کھیل کافیصلہ کن عنصربن سکتاہے۔
تیسری تہہ سب سے زیادہ معنی خیز ہے بیانات کی زبان۔مارکوروبیوکایہ کہناکہ یہ پیش کش توقع سے بہترہے،مارکوروبیوکابیان اس بات کاثبوت ہے کہ دروازے بندنہیں ہوئے۔یہ سفارت کاری کی وہ زبان ہے جس میں انکاربھی ہوتاہے اوردعوت بھی۔گویامارکوروبیوکا بیان دراصل ایک سفارتی دروازہ کھلارکھنے کااعلان ہے۔یہ انکارنہیں،بلکہ مشروط قبولیت ہے۔
عالمی میڈیاکے ذرائع کی اطلاعات اس تاثرکومزیدمضبوط اورتصدیق کرتی ہیں کہ اصل مذاکرات جاری ہیں۔فاصلے کم ہیں،اورایک مرحلہ وارمعاہدہ تشکیل پارہاہے۔یعنی وہی تصور جوایران نے پیش کیا،اورجسے امریکی تجزیہ کاربھی تسلیم کررہے ہیں۔یہ وہ دنیاہے جہاں اصل فیصلے کیمروں کے سامنے نہیں،بلکہ بنددروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں۔توپھرسوال یہ ہے کہ وہ تکونی میزکیوں اٹھائی گئی؟اس لیے کہ سیاست میں تاثرحقیقت سے زیادہ اہم ہوتاہے۔ٹرمپ کی سیاست میں ڈرامہ ایک اہم عنصرہے۔وہ پہلے انکارکرتاہے،پھراسی چیز کواپنی کامیابی بناکرپیش کرتاہے۔یہ ایک آزمودہ حکمت عملی ہے۔ٹرمپ کو اپنی عوام کودکھاناتھاکہ اس نے انکارکیا،تاکہ بعدمیں وہی معاہدہکامیابیکے طورپرپیش کیاجاسکے۔یہ سیاست کاقدیم اصول ہے پہلے انکار،پھر اقرار۔
پاکستان کاکرداراس پورے عمل میں نہایت اہم ہے۔ایران کااعتماد،اورامریکاکی شمولیت،اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اب ایک فعال سفارتی قوت بن رہا ہے۔پاکستان کا کرداراس تمام منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ایران کااسلام آبادپراعتماد،اوربارباریہاں آنا،اوردوسری طرف امریکاکی شمولیت،ٹرمپ کاباربارپاکستانی وزیراعظم اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکیلئے توصیفی کلمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نہ صرف اب ایک فعال سفارتی قوت بن رہاہے بلکہ پاکستان اب محض جغرافیائی نہیں،ایک نئی شناخت کا آغاز ہوچکاہے جہاں اقوام عالم میں اس کی پذیرائی کاایک نیاریکارڈقائم ہواہے۔
چاہے مذاکرات اسلام آباد میں ہوں یامسقط میں،مقصدایک ہی ہے:مفاہمت۔مقام بدل سکتاہے،مگر ضرورت نہیں بدلتی۔یہ عمل ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ممکن ہے کہ مذاکرات کامقام بدل جائے،طریقہ بدل جائے،مگرمقصد وہی رہے گا۔روس،عمان، اوردیگرقوتیں بھی اس کھیل کاحصہ بنتی جارہی ہیں۔یہ جنگ اپنی نوعیت میں منفردہے۔اس کاانجام پہلے سے واضح ہے،مگراس کے مراحل پیچیدہ ہیں۔یہی پیچیدگی اسے دلچسپ بناتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کاانجام تقریباطے ہے۔ضرورتیں اس قدرواضح ہیں کہ تصادم زیادہ دیربرقرارنہیں رہ سکتا۔ڈرامہ اپنی جگہ، مگرضرورت اپنی جگہ اورتاریخ گواہ ہے کہ آخرکارضرورت ہی غالب آتی ہے۔
ایران کی مزاحمت اورثابت قدمی نے عالمی بیانیے کوبدل کراورتوازن کوہلاکررکھ دیاہے۔اب سوال یہ نہیں کہ کون طاقتورہے،بلکہ یہ ہے کہ کون زیادہ دیرتک کھڑارہ سکتاہے۔ ادھر دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے عوام اب یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ امریکاان کے تحفظ کیلئے ہے یاکسی اورکے۔یہ سوال محض سیاسی نہیں،تہذیبی اورفکری بھی ہے۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیایہ بحران اورصورتِ حال ایک نئے عالمی نظام کی تمہیدہے جہاں علاقائی قوتیں زیادہ اہم کردارادا کریں گی؟ کیاعلاقائی قوتیں اب خلاکوپرکریں گی؟بظاہر یہی امکان روشن دکھائی دیتاہے۔چین، روس،اورعلاقائی اتحادایک نئے توازن کی بنیادرکھ سکتے ہیں اورسب سے اہم کہ مشرقِ وسطی میں پاکستان ایک اہم کردارکی طرف تیزی سے بڑھ رہاہے جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے سعودی عرب میں اپنی پوزیشن سنبھال چکاہے۔
جب تاریخ اپنے کسی اہم موڑپر پہنچتی ہے تووہ محض واقعات کی ترتیب نہیں رہتی،بلکہ ایک عمیق درس میں ڈھل جاتی ہے۔یہ درس ہمیں سکھاتاہے کہ طاقت کااصل مفہوم کیاہے، مفاد کی حدیں کہاں تک جاتی ہیں،اورانسان کی اجتماعی عقل کب اورکیسے تصادم کے راستے سے ہٹ کرمفاہمت کی طرف مائل ہوتی ہے۔زیرِبحث صورتِ حال بھی اسی نوع کی ایک زندہ مثال ہے جہاں بظاہرکشیدگی، دھمکیوں اورغیر یقینی کی فضاغالب دکھائی دیتی ہے،مگراس کے پسِ منظرمیں ایک ایسی خاموش حرکت جاری ہے جوبالآخراستحکام کی طرف لے 
جاتی ہے۔
یہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ جدیددنیا میں کوئی بھی تنازع ہمیشہ کیلئے برقرارنہیں رہ سکتا۔معیشت کی زنجیریں،توانائی کی ضروریات،اورعالمی باہمی انحصاراس قدرگہرا ہو چکاہے کہ طویل تصادم خوداپنے بوجھ تلے دب کرمفاہمت کی راہ ہموارکردیتاہے۔یہی وہ اصول ہے جوبظاہرمتضادقوتوں کوایک نہ ایک مرحلے پرایک میزپرآمنے سامنے لاکھڑاکرتا ہے چاہے وہ میزعارضی طو پرخالی کیوں نہ دکھائی دے۔
اس تمام منظرنامے میں ایک اوراہم پہلوبھی نمایاں ہوتاہے،اوروہ ہے بیانیے کی تشکیل۔جوقومیں اورقیادتیں اپنے بیانیے کومضبوط، مربوط اورمثرانداز میں پیش کرتی ہیں،وہی عالمی رائے عامہ پراثراندازہونے میں کامیاب رہتی ہیں۔اس لیے یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ موجودہ دورمیں جنگ صرف سرحدوں پرنہیں،بلکہ ذہنوں اورتصورات میں بھی لڑی جارہی ہے
اوراس جنگ میں کامیابی اسی کوحاصل ہوتی ہے جوحقیقت اورتاثرکے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔پاکستان کیلئے یہ وقت محض مشاہدے کانہیں،بلکہ تدبراورعمل کاہے۔ایک ذمہ دار اورمتحرک ریاست کے طورپراس کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کونہ صرف سمجھ سکے بلکہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لیے ایک باوقارمقام بھی متعین کرے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سفارت کاری کومحض ردِعمل تک محدودنہ رکھاجائے،بلکہ اسے ایک فعال حکمتِ عملی کے طورپربروئے کارلایاجائے۔
بالآخریہ کہاجاسکتاہے کہ دنیاایک ایسے مرحلے سے گزررہی ہے جہاں ہرکشمکش اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے،اورہرتصادم اپنے اندرمفاہمت کے بیج لیے ہوئے ہے۔وقتی
 اتار چڑھاؤ،بیانات کی شدت،اورحالات کی غیریقینی اپنی جگہ،مگرتاریخ کابہاؤہمیشہ توازن کی طرف مائل رہتاہے۔یہی توازن انسانیت کی بقاکی ضمانت ہے،اوریہی وہ حقیقت ہے جوہربڑے بحران کیبعدایک نئی ترتیب،ایک نئے نظام،اورایک نئی امیدکوجنم دیتی ہے۔
آخرکاریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ دنیا اس وقت ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں ہرفریق نہ صرف اپنی چال چل رہاہے،بلکہ اپنی قیمت بڑھانے کی کوشش بھی کررہاہے،مگرانجام ایک ہی ہے ’’مفاہمت‘‘۔بازارگرم ہے،بھاؤتاؤجاری ہے،مگرسوداطے ہوناناگزیرہے۔اورجب یہ سوداطے ہوگا،توتاریخ ایک بارپھرگواہی دے گی کہ طاقت نہیں،ضرورت جیتی ہے مگریہ بات یقینی ہے کہ تاریخ ایک بارپھراسلام آبادکا نام انہی شہروں کے ساتھ لکھے گی،جہاں امن کے معاہدے تاریخ کارخ موڑتے ہیں۔