محرم الحرام میں لنگر و نیاز کی تیاری، گھی اور آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

محرم الحرام میں لنگر و نیاز کی تیاری، گھی اور آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی لنگر اور نیاز کی تیاری کے لیے گھی اور کوکنگ آئل کی طلب میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے، مگر شہر بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر ان اشیاء کی بدترین قلت شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔

درجہ اول، دوم اور سوم تمام اقسام دستیاب نہیں
ذرائع کے مطابق، یوٹیلیٹی اسٹورز پر درجہ اول، دوم اور سوم — تینوں اقسام کا گھی اور کوکنگ آئل کئی روز سے دستیاب نہیں ہے۔ متعدد اسٹورز پر وزٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اسٹورز پر آنے والے صارفین خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔

اوپن مارکیٹ میں نرخ آسمان کو چھونے لگے
یوٹیلیٹی اسٹورز پر دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گھی اور آئل کے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے:

درجہ اول گھی / آئل: 560 روپے فی کلو / لیٹر
درجہ دوم: 520 روپے فی کلو / لیٹر
یہ قیمتیں یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملنے والے رعایتی نرخوں سے 100 سے 150 روپے فی کلو زیادہ ہیں، جس سے کم آمدنی والا طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

شہریوں کا شکوہ اور مطالبہ
لنگر و نیاز کی تیاری کے لیے خریداری کے لیے آئے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:

"ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر سال محرم الحرام میں نیاز بانٹیں اور لنگر کریں، مگر اس بار یوٹیلیٹی اسٹورز پر کچھ بھی دستیاب نہیں، اور اوپن مارکیٹ میں قیمتیں ہماری پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔"
شہریوں نے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت دونوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی و آئل کی فوری فراہمی یقینی بنائیں تاکہ کم آمدنی والے افراد بھی عبادت و خدمت کے جذبے سے محروم نہ رہیں۔

انتظامیہ کی خاموشی
تاحال یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن یا متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کسی واضح وضاحت یا بحالی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے صارفین کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

 تجزیہ
محرم الحرام جیسے مذہبی لحاظ سے مقدس مہینے میں لنگر و نیاز کی روایت نہ صرف روحانی عمل ہے بلکہ سماجی یکجہتی کی علامت بھی۔ گھی اور آئل جیسی بنیادی اشیاء کی قلت نے عبادت کی نیت سے آنے والے ہزاروں افراد کو پریشان کر رکھا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری سکون سے اپنی عبادات اور نیکیاں انجام دے سکیں۔