ویب ڈیسک: ملک میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے، اشیائے خورونوش خصوصاً چینی، گھی اور آٹا کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔
چینی کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ
شہر میں چینی کی قیمتیں مسلسل بڑھنے کا سلسلہ نہ رک سکا۔
چینی کے 50 کلوگرام تھیلے کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،
جس کے بعد اب ایک تھیلا 9,000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ہول سیل مارکیٹ میں چینی 182 روپے فی کلو
پرچون میں 190 سے 192 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
پیکنگ شدہ برانڈڈ چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے۔
گھی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں
درجہ اول کا خالص گھی 560 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہا ہے۔
جب کہ درجہ دوم کا گھی بھی 520 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکا ہے۔
آٹا بھی مہنگا: 10 اور 20 کلو کے تھیلے کی قیمتوں میں اضافہ
10 کلو آٹے کا تھیلا 750 روپے
20 کلوگرام آٹے کا تھیلا 1,375 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
عوامی ردِعمل
شہریوں نے مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزمرہ کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اس قدر اضافے نے ان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ایک شہری نے کہا:"جس رفتار سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لگتا ہے اگلے مہینے چینی اور آٹا بھی سونے کے بھاؤ بکے گا۔"
حکومتی خاموشی اور اقدامات؟
تاحال حکومت کی جانب سے ان قیمتوں پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے، جب کہ ہول سیلرز اور ڈیلرز ذخیرہ اندوزی اور طلب و رسد میں خلل کو مہنگائی کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔