بھارت: تلنگانہ میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 26 زخمی

بھارت: تلنگانہ میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 26 زخمی

بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی میں واقع ایک کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے خطرناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور 26 مزدور زخمی ہو گئے۔

 واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ری ایکٹر میں دھماکہ، فیکٹری آگ کی لپیٹ میں آ گئی
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ حادثہ سیگاچی انڈسٹریز نامی کیمیکل پلانٹ میں اس وقت پیش آیا جب وہاں موجود ری ایکٹر اچانک پھٹ گیا اور اس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ریسکیو اور فائر بریگیڈ کو شدید مشکلات
ریسکیو ذرائع کے مطابق، آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم شعلوں کی شدت اور کیمیکلز کی موجودگی کے باعث فائر بریگیڈ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

انتظامیہ کا مؤقف: زہریلی گیس یا کیمیکل کا اخراج نہیں ہوا
مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں زہریلی گیس یا خطرناک کیمیکل کے اخراج کا کوئی فوری خدشہ نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت فیکٹری کے آس پاس کے علاقے کو جزوی طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔

بھارت میں صنعتی حادثات ایک سنگین مسئلہ
یہ واقعہ بھارت میں صنعتی حادثات کی ایک لمبی فہرست میں تازہ اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں انڈسٹریل سیفٹی اقدامات کی کمی، ناقص نگرانی اور حفاظتی معیارات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات بار بار پیش آتے ہیں۔

چند اہم پس منظر نکات:
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق، صرف 2003 میں بھارت میں 47 ہزار سے زائد صنعتی حادثات میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق، حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بیشتر واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
1984 کا بھوپال سانحہ (یونین کاربائیڈ گیس لیک) بھارت کا بدترین صنعتی حادثہ تھا، جس میں 15 ہزار سے زائد اموات ہوئیں اور آج بھی متاثرین اس کے اثرات جھیل رہے ہیں۔
 تجزیہ
تلنگانہ میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ بھارت کے صنعتی نظام میں موجود خامیوں، حفاظتی کوتاہیوں اور کمزور نگرانی کی ایک اور مثال ہے۔ جہاں ایک طرف فیکٹری مالکان پیداوار کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف مزدوروں کی جان کی قیمت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ بھارت کو صنعتی سیفٹی کے حوالے سے سخت قانون سازی اور اس پر موثر عملدرآمد کرنا ہوگا، ورنہ ایسے واقعات بار بار رونما ہوتے رہیں گے۔