حیدرآباد میں پٹاخوں کی فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
اس حادثے میں 5 زخمی بھی ہوئے تھے، جن میں سے 2 دم توڑ گئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ زخمیوں میں سے کچھ کو کراچی کے سول ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ سندھ، نے زخمی مزدوروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور فیکٹری میں حفاظتی انتظامات کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی پٹاخوں کے گوداموں، فیکٹریوں اور ایل پی جی فِلنگ پوائنٹس کی نشاندہی اور بندش کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان غیر قانونی گوداموں، دکانوں اور فیکٹریوں کا سروے اور کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایس پیز، اور ایس ایچ اوز کو کارروائی کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔
کمیٹیاں مارکیٹس، گوداموں، اور پوشیدہ مقامات کا معائنہ کرکے رپورٹ تیار کریں گی۔ قوانین اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں اور گوداموں کو فوری طور پر سیل کیا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہفتہ وار رپورٹس جمع کروانے اور پیشرفت کے حوالے سے اجلاس بلانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز حیدرآباد میں پٹاخے بنانے والی ایک فیکٹری میں زوردار دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔