بھارتی ریاست تلنگانہ کے صنعتی ضلع سنگا ریڈی میں واقع ایک کیمیکل فیکٹری میں پیش آنے والے خوفناک دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔
حادثے کے بعد متعدد زخمی اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئے، جبکہ دیگر کئی افراد کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کی تفصیلات:
دھماکہ فیکٹری کے ری ایکٹر یونٹ میں پیش آیا جس کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی۔
دھماکے کے فوراً بعد زہریلا دھواں وسیع علاقے میں پھیل گیا، جس سے متعدد افراد متاثر ہوئے۔
ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، مگر آگ پر قابو پانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کچھ نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کا ردعمل:
وزیراعظم نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس امداد اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کا اعلان کیا۔
انہوں نے ریاستی حکومت اور متعلقہ اداروں کو تحقیقات تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کی ہدایت دی۔
صنعتی حادثات کا تسلسل:
بھارت میں صنعتی حادثات ایک معمول بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق:
ناقص حفاظتی اقدامات، غیر تربیت یافتہ عملہ، اور ریگولیٹری نگرانی کی کمی ان حادثات کی بنیادی وجوہات ہیں۔
تلنگانہ واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں صنعتی تحفظ کے اقدامات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ماضی میں بھوپال گیس سانحہ جیسے بدترین حادثے کے باوجود خاطر خواہ اصلاحات نہیں ہو سکیں۔
مزید کارروائی:
ریاستی حکومت نے تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے اور فیکٹری انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔یہ افسوسناک واقعہ بھارتی صنعتی شعبے میں حفاظتی اقدامات کی از سر نو جانچ کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
Ask ChatGPT