کرسٹیانو رونالڈو نے سعودی عرب میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

کرسٹیانو رونالڈو نے سعودی عرب میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

عالمی شہرت یافتہ پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانب سے سعودی عرب میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ اپنی باقی زندگی سعودی عرب میں گزارنا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں کا ماحول پرامن، محفوظ اور گھر جیسا ہے۔

گھر جیسا سکون سعودی عرب میں محسوس ہوتا ہے: رونالڈو
النصر فٹبال کلب کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں 40 سالہ رونالڈو نے کہا:“سعودی عرب ایک شاندار ملک ہے جہاں مجھے اور میرے خاندان کو گھر جیسا سکون اور تحفظ محسوس ہوتا ہے۔ ہم یہاں بہت خوش ہیں اور اسی لیے ہم نے یہاں اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔”رونالڈو نے مزید کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ ان کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے اور اس فیصلے میں بھی وہ ان کے ساتھ ہے۔

2027 تک النصر سے معاہدہ، بڑا ٹائٹل جیتنے کا عزم
یاد رہے کہ رونالڈو نے 2022 کے اختتام پر مانچسٹر یونائیٹڈ کو خیرباد کہہ کر سعودی کلب النصر میں شمولیت اختیار کی تھی۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اپنے موجودہ کلب کے ساتھ 2027 تک معاہدے میں توسیع کر دی ہے، جس کا باضابطہ اعلان جمعرات کو کیا گیا۔رونالڈو نے کہا کہ ان کا مشن ہے کہ وہ النصر کلب کے ساتھ بڑا ٹائٹل جیتیں، اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے فیفا کلب ورلڈ کپ (امریکا میں جاری) میں شرکت کی پیشکش کو مسترد کیا تاکہ وہ آرام اور تیاری کر سکیں۔

سعودی پرو لیگ دنیا کی 5 بہترین لیگز میں شامل ہے
رونالڈو نے سعودی پرو لیگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیگ اب دنیا کی پانچ بہترین لیگز میں شامل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2034 میں سعودی عرب میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ فٹبال کی تاریخ کا سب سے شاندار ٹورنامنٹ ثابت ہوگا۔

سعودی ثقافت اور عوام کی تعریف
رونالڈو نے اپنے پیغام میں سعودی عوام اور ثقافت کی بھی دل کھول کر تعریف کی:“یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں۔ مجھے سعودی عرب کی ثقافت سے لگاؤ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔”
 پس منظر
کرسٹیانو رونالڈو دنیا کے سب سے مقبول اور کامیاب فٹبالرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سعودی عرب آنا اور یہاں قیام کا فیصلہ نہ صرف مڈل ایسٹ میں فٹبال کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ سعودی عرب کے عالمی امیج کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔