پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن ارکان کو 13 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چار قائمہ کمیٹیوں میں عدم اعتماد کی تحاریک جمع کرائی گئی ہیں، جب کہ باقی 9 کمیٹیوں پر بھی جلد فیصلہ متوقع ہے۔
عدم اعتماد کی تحاریک:
اسمبلی ذرائع کے مطابق ان کمیٹیوں کے خلاف حکومتی ارکان نے باقاعدہ تحاریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہیں، جن میں شامل ہیں:
قائمہ کمیٹی برائے کالونیز
عدم اعتماد تحریک جمع کرانے والوں میں نوید اسلم، غزالی سلیم بٹ، زکیہ خان اور عائشہ جاوید شامل ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے سپیشل ایجوکیشن
محمد یوسف، غضنفر عباس، عطیہ افتخار اور فیلبوس کرسٹوفر نے چیئرمین کے خلاف تحریک جمع کرائی۔
قائمہ کمیٹی برائے لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن
فیصل اکرم، لعل محمد، جعفر علی ہوچہ اور عمران جاوید نے تحریک جمع کرائی۔
قائمہ کمیٹی برائے مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ
رانا عبدالستار، سہیل خان، رفعت عباسی اور ضیا الرحمٰن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔
کمیٹی اجلاس طلب:
تحریکوں کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس آج سے طلب کر لیے گئے ہیں تاکہ چیئرمین شپ کی تبدیلی پر کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
مزید کارروائی کا امکان:
اسمبلی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی باقی 9 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی انہیں ہٹانے کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔اس اقدام کو پنجاب حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے ساتھ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایک سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد اسمبلی میں محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔