پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن کے تمام ارکان نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے

پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن کے تمام ارکان نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے تمام اراکین نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

 یہ استعفے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے دفتر کو موصول ہو چکے ہیں، تاہم تاحال کسی بھی رکن کا استعفیٰ منظوری کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے یا منظور نہیں کیا گیا ہے۔ایسی حالت میں کہ جب استعفے موصول ہو چکے ہیں، بعض اپوزیشن ارکان اب بھی سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، جو کہ قانون اور قواعد کے مطابق غیر قانونی تصور ہو سکتا ہے۔ ان میں سے صرف دو چیئرمین، حافظ فرحت عباس اور اویس عمر ورک، نے استعفے کے بعد سرکاری گاڑیاں واپس کی ہیں۔ تاہم، بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے گاڑیاں واپس نہیں کیں، جو کہ خبر میں تضاد پیدا کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو خبر میں تدوینی غلطی ہے یا حقائق کی تصدیق میں فرق پایا جاتا ہے۔مزید برآں، کچھ اراکین نے اپنے استعفے بیرون ملک سے واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے ہیں، جو کہ ضابطوں کے مطابق غیر معمولی اور متنازع قرار دی جا سکتی ہے کیونکہ استعفوں کی منظوری اور تصدیق کے لیے عموماً تحریری طور پر اور ذاتی طور پر جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ چند اراکین نے اپنے استعفے خود جا کر اسپیکر کے دفتر میں جمع کرائے ہیں، جنہیں آئینی اور قواعد کے مطابق درست سمجھا جاتا ہے۔

یہ صورتحال سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث بن چکی ہے، کیونکہ ایک طرف اپوزیشن کے استعفے موصول ہو چکے ہیں، اور دوسری طرف ان کا عملی طور پر اثر انداز ہونا اور ان کے نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حالات میں اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، اور آئین و قانون کے مطابق تمام اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔