اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا پانے والی سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے اپنی سزا معطل کرانے اور ضمانت پر رہائی کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
درخواست میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فوری طور پر ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ مختلف طبی مسائل کا شکار ہیں اور دورانِ قید ان کی صحت مسلسل متاثر ہوئی۔ درخواست کے مطابق جیل میں رہتے ہوئے انہیں آنکھوں کی بیماری لاحق ہوئی، جس کے باعث ان کی سرجری بھی کرنا پڑی، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب طبی سہولیات اور مسلسل علاج فراہم نہیں کیا گیا۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی ایک خاتون ہیں اور ان کی صحت کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جہاں مناسب دیکھ بھال اور علاج سے محروم رکھا گیا، جس کے باعث ان کی صحت مزید متاثر ہوئی۔درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) جان بوجھ کر سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلے میں تاخیر اور رکاوٹ پیدا کر رہا ہے، جس سے انصاف کے تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔
بشریٰ بی بی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی طبی حالت، خاتون ہونے اور دیگر انسانی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا کو معطل کیا جائے اور اپیل کے حتمی فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی نے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ سزا معطلی کی یہ درخواست بھی اسی سلسلے کی ایک قانونی کارروائی ہے۔ اب وفاقی آئینی عدالت درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ آیا بشریٰ بی بی کو اپیل کے فیصلے تک عبوری ریلیف دیا جائے یا نہیں۔