بالی ووڈ اور ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کے معروف اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر دھنوش ایک بار پھر اپنی ممکنہ سیاسی انٹری کی خبروں کے باعث توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
حال ہی میں اداکار دھنوش نے مداحوں کی جانب سے منعقد کیے گئے بلڈ ڈونیشن کیمپ سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنے مداحوں پر زور دیا کہ وہ اپنی اجتماعی طاقت کو صرف فلمی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے بھی استعمال کریں۔دھنوش نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا ایک بڑی طاقت ہوتی ہے، لیکن اس طاقت کو کسی مثبت مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں کے لوگوں کے مسائل کو سمجھیں اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔اداکار کا کہنا تھا کہ مداحوں کی محبت اور حمایت ان کے لیے باعثِ فخر ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مداح سماجی ذمہ داریوں میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔دھنوش کی اس تقریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جس کے بعد صارفین نے ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ کئی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ دھنوش کا اندازِ گفتگو، عوامی مسائل پر توجہ اور مداحوں کو منظم کرنے کی اپیل سیاست میں آنے کی ممکنہ تیاری کی نشاندہی کرتی ہے۔
بعض صارفین نے ان کا موازنہ ساؤتھ انڈین سپر اسٹار تھلاپتی وجے سے بھی کیا، جنہوں نے فلمی دنیا کے بعد سیاست میں قدم رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ دھنوش مستقبل میں وجے کی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کزگم (TVK) سے وابستہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔واضح رہے کہ دھنوش نے اب تک سیاست میں آنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔دھنوش کا شمار تمل فلم انڈسٹری کے کامیاب ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایتکاری اور پروڈکشن کے شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی مقبولیت نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے ان کے سیاسی میدان میں آنے کی کسی بھی خبر کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔