بھارت کی تامل فلم انڈسٹری کے معروف اداکار جے نے اپنے اسلام قبول کرنے کے فیصلے اور اس کے پیچھے موجود روحانی سفر کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کسی ایک لمحے میں نہیں ہوا بلکہ یہ کئی سالوں پر محیط ذاتی تجربات، سوالات اور اندرونی سکون کی تلاش کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق وہ 2011 سے روحانی طور پر مختلف سمتوں میں غور و فکر کر رہے تھے، جبکہ 2019 میں انہوں نے باضابطہ طور پر اسلام قبول کرنے کی تصدیق کی۔اداکار کے مطابق اپنے ابتدائی دور میں وہ مختلف مذہبی تجربات سے گزرے، جن میں سبری مالا کے لیے مخصوص مذہبی رسومات اور کچھ عرصہ عیسائیت کی جانب رجحان بھی شامل تھا۔ تاہم ان کے بقول مختلف تجربات اور ذاتی مشاہدات نے انہیں مزید سوالات کی طرف مائل کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے فیصلہ کن تجربہ مسجد کا پہلا دورہ تھا، جہاں وہ ایک عام نمازی کی طرح صف میں کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔ ان کے مطابق وہاں لوگوں نے ان کی شہرت کو نظر انداز کیا اور کسی قسم کا غیر ضروری برتاؤ نہیں کیا، جس نے انہیں گہرا اثر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد سے باہر لوگوں نے ان سے احترام سے ملاقات کی لیکن عبادت کے دوران سب برابر تھے، جو ان کے لیے ایک منفرد اور نیا احساس تھا۔ اسی تجربے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ عبادت میں اصل اہمیت انسان کی برابری اور خلوص کو حاصل ہے۔جے کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سوچ اور طرزِ زندگی میں واضح تبدیلی آئی ہے اور انہیں ذاتی طور پر زیادہ سکون محسوس ہوتا ہے۔واضح رہے کہ اداکار جے نے اپنے کیریئر کا آغاز 2002 میں کیا تھا، اور وہ تامل سنیما میں ایک معروف نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔