سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی، جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچایا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، عراق، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے ملاقات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے حالات کو معمول پر لانے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔سعودی وزیرِ دفاع کے مطابق ایران سے منسلک عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سعودی عرب کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ سعودی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کی صلاحیت کا اظہار تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے جے ڈی وینس کو بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے حامی ہیں، جبکہ سعودی عرب تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں کارروائی کا ایک مقصد یمن کے حوثی گروہ کو بھی پیغام دینا تھا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں سے نمٹنے کے لیے فی الحال امریکی فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں۔رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور حوثی گروہ کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے اور سیاسی حل کی راہ ہموار ہو۔سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور سعودی عرب کے سفارتی کردار کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے۔