3 میں 2 ڈرونز کو فضائی نظام نے کامیابی سے مار گرایا تھا :اماراتی وزارت دفاع
ابوظہبی، نیویارک (آئی این پی )متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ 17 مئی کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اس واقعے میں شامل تینوں ڈرون عراق سے بھیجے گئے تھے۔اماراتی وزارت دفاع کے مطابق 3 میں 2 ڈرونز کو متحدہ عرب امارات کے فضائی نظام نے کامیابی سے مار گرایا تھا جبکہ تیسرا ڈرون پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر ایک بجلی کے جنریٹر کو لگا۔وزارتِ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ 6 ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں مار گرایا ہے، یہ ڈرونز ملک میں شہری اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔دوسری جانب قوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری پلانٹ پر براہ راست حملے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا حملہ بڑے پیمانے پر تابکاری کے اخراج کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ حالیہ حملے کے بعد پلانٹ کی بیرونی بجلی بحال کر دی گئی ہے، جو جوہری تحفظ کیلئے ایک اہم پیشرفت ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات مکمل طور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ براکہ جوہری پلانٹ پر کسی بھی براہ راست حملے کی صورت میں ماحول میں بڑی مقدار میں تابکاری خارج ہو سکتی ہے۔رافیل گروسی نے کہا اگر حملے کے نتیجے میں پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی لائنیں ناکارہ ہو جائیں تو ری ایکٹرز کے کور پگھلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید تابکاری پھیل سکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بدترین صورتحال میں حفاظتی اقدامات، بشمول لوگوں کے انخلا، ناگزیر ہو سکتے ہیں، پرامن مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔