لاہور کو پیرس بنانے کا خواب ادھورا؟

 شہزاد راجپوت
لاہور کو پیرس بنانے کا خواب دکھانے والوں کو شاید آج اٹلی کے شہر وینس کی سیر کرنی چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ وہاں سیاحت کو فروغ ملا ہے بلکہ اس لیے کہ انہیں احساس ہو سکے  ان کا خواب آخر کس سمت جا نکلا۔ فرق صرف اتنا ہے وینس میں پانی نعمت ہے اور لاہور میں زحمت۔ وہاں لوگ کشتیوں میں سفر کرتے ہیں۔ یہاں لوگ دعاؤں کے سہارے موٹرسائیکل چلاتے ہیں۔ وہاں نہریں شہر کی پہچان ہیں۔ یہاں گلیاں اور سڑکیں عارضی نہروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔چند برس پہلے تک بڑے اعتماد سے کہا جاتا تھا لاہور کو پیرس بنا دیں گے۔ عوام نے بھی سوچا کہ شاید واقعی ایسا دن آئے گا جب صاف ستھری سڑکیں، بہترین سیوریج، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی شہری سہولتیں لاہور کا مقدر بنیں گی۔ لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پیرس تو نہ بن سکا البتہ ہر مون سون میں لاہور وینس کا روپ ضرور دھار لیتا ہے۔ وہ بھی بغیر کسی منصوبہ بندی اور بغیر کسی سیاحتی پیکیج کے۔مون سون کی پہلی بارش ہوتے ہی شہر کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ جس سڑک پر کل گاڑیاں دوڑ رہی ہوتی ہیں۔ آج وہاں پانی دوڑ رہا ہوتا ہے۔ جس گلی میں بچے کرکٹ کھیلتے تھے۔ وہاں اب کاغذ کی کشتیاں تیر رہی ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کشتیوں میں خواب بہہ رہے ہوتے ہیں کیونکہ شہری جانتے ہیں کہ یہ پانی چند منٹ کی بارش کا نہیں بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔حکومت اور متعلقہ ادارے ہر سال مون سون سے پہلے ایسی تیاریوں کا اعلان کرتے ہیں کہ لگتا ہے اس بار شاید بادل بھی اجازت لے کر برسیں گے۔ اجلاس ہوتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں، بریفنگز دی جاتی ہیں، مشینری کی نمائش ہوتی ہے، افسران فیلڈ کے دورے کرتے ہیں اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس بار شہریوں کو کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا لیکن جیسے ہی بادل برسنا شروع ہوتے ہیں تمام دعوے پانی میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔بارش کے بعد لاہور کا ہر علاقہ اپنی الگ جھیل بن جاتا ہے۔ گلبرگ کی اپنی جھیل، جیل روڈ کی اپنی نہر، لکشمی چوک کا اپنا آبی ذخیرہ، فیروزپور روڈ کا اپنا دریا اور سمن آباد، مغل پورہ، اقبال ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، تاجپورہ اور سگیاں اپنے اپنے تالابوں کے ساتھ شہری منصوبہ بندی کا منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کو مختلف آبی زونز میں تقسیم کر دیا گیا ہو۔لاہوری بھی کمال کے لوگ ہیں۔ ہر سال پانی میں پھنس جاتے ہیں، گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں، موٹرسائیکلیں دھکا مانگتی ہیں، جوتے ہاتھ میں اٹھا کر گھر پہنچتے ہیں مگر اگلے سال پھر وہی امید لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ شاید اس بار کچھ بدل جائے۔ امید بھی عجیب چیز ہے، خاص طور پر اس شہر میں جہاں ہر مون سون سے پہلے وعدے بھی نئے ہوتے ہیں اور نتائج بھی پرانے۔اصل مسئلہ بارش نہیں، انتظام ہے۔ اگر بارش ہی مسئلہ ہوتی تو دنیا کے وہ ممالک جہاں لاہور سے کئی گنا زیادہ بارش ہوتی ہے۔ ہر سال پانی میں نہ ڈوبتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے منصوبہ بندی کو فائلوں تک محدود کر دیا ہے اور نکاسی آب کو پریس ریلیزوں کے حوالے کر دیا ہے۔ نالے کاغذوں میں صاف ہوتے ہیں اور سڑکیں حقیقت میں ڈوبتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ شہری اب بارش کی پیش گوئی محکمہ موسمیات سے کم اور اپنے محلے کی حالت سے زیادہ کرتے ہیں۔ اگر پچھلے سال پانی تین فٹ کھڑا تھا تو اس سال اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ شاید چار فٹ ہوگا۔ بعض علاقوں میں تو لوگوں نے گھروں کے باہر مستقل اینٹیں رکھ لی ہیں تاکہ بارش کے موسم میں کم از کم دروازے تک پہنچ سکیں۔ شاید یہی جدید شہری منصوبہ بندی کا مقامی ماڈل ہے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اگر یہ صورتحال چند سال اور جاری رہی تو لاہور میں بھی واٹر ٹیکسی سروس شروع کرنے کی تجاویز سامنے آنے لگیں گی۔ موٹرسائیکل کی جگہ کشتی، رکشے کی جگہ ڈونگی اور ٹریفک پولیس کی جگہ ملاح کھڑے ہوں گے۔ شاید اس وقت کوئی یہ بھی اعلان کر دے کہ لاہور واقعی عالمی معیار کا شہر بن گیا ہے کیونکہ اب اس کی شناخت بھی پانی سے ہونے لگی ہے لیکن طنز اپنی جگہ، حقیقت انتہائی تلخ ہے۔ بارش کا پانی صرف ٹریفک جام نہیں کرتا بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور معمولات زندگی کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔ مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتے، طلبہ امتحان گاہوں تک نہیں پہنچتے، کاروبار بند ہو جاتے ہیں، بجلی کے کرنٹ سے حادثات ہوتے ہیں، چھتیں گرتی ہیں اور کئی خاندان زندگی بھر کا نقصان اٹھا لیتے ہیں۔ ایسے میں "پیرس" اور "وینس" کی تشبیہیں محض طنز نہیں رہتیں بلکہ ایک ناکام شہری نظام پر فردِ جرم بن جاتی ہیں۔حکمران بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، منصوبوں کے نام بدلتے رہے مگر بارش کے بعد لاہور کا منظر نہیں بدلا۔ شہری آج بھی وہی سوال پوچھ رہے ہیں آخر اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں، جدید مشینری، ہنگامی اجلاسوں اور بلند و بانگ دعوؤں کا نتیجہ کہاں ہے اگر ہر سال وہی پانی، وہی مشکلات اور وہی شکایات سامنے آنی ہیں تو پھر ترقی کے دعوے آخر کس کے لیے ہیں۔لاہور کو پیرس بنانے کا خواب دکھانے والوں سے اب صرف ایک گزارش ہے آئندہ کوئی نیا خواب دکھانے سے پہلے ایک بار بارش کے دوران شہر کا چکر ضرور لگا لیں۔ شاید انہیں خود احساس ہو جائے کہ پیرس ابھی بہت دور ہے فی الحال تو لاہور ہر مون سون میں وینس بننے کی مشق کر رہا ہے مگر افسوس یہ ہے یہاں نہ گونڈولا ہیں، نہ سیاح، نہ موسیقی۔ صرف پانی، پریشانی اور وعدوں کی ڈوبتی ہوئی صدائیں ہیں۔