ارشد مہدی جعفری
بنگلہ دیش کی سیاست جنوبی ایشیا کی اْن داستانوں میں سے ہے جہاں آزادی کی جدوجہد، فوجی مداخلت، جمہوری اتار چڑھاؤ اور خاندانی سیاست ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ کسی ایک کردار کو سمجھے بغیر پوری تصویر واضح نہیں ہوتی۔ جنرل ضیاء الرحمٰن کا نام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ وہ محض ایک فوجی افسر نہیں تھے بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی تشکیلِ نو میں فیصلہ کن کردار رکھنے والی شخصیت بن کر ابھرے۔
ضیاء الرحمٰن 1936 میں بوگرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان آرمی میں کمیشن یافتہ افسر تھے اور 1971 کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔ مارچ 1971 میں جب حالات بگڑ رہے تھے، چٹاگانگ کے ریڈیو اسٹیشن سے انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان پڑھا، جسے بعد میں مجیب الرحمن کے اعلان کی توثیق کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق آزادی کی جنگ میں ان کی براہِ راست شمولیت بطور سیکٹر کمانڈر رہی اور انہیں بعد ازاں بنگلہ دیش کا قومی اعزاز ‘‘بیر اْتم’’ دیا گیا۔ ان کے کسی بزرگ کا جنگ آزادی سے تعلق تاریخ میں نمایاں طور پر درج نہیں ملتا، لہٰذا ان کی شناخت بنیادی طور پر ان کی اپنی عسکری اور سیاسی خدمات سے جڑی ہے۔
آزادی کے بعد بنگلہ دیش سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ 1975 میں شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد فوجی بغاوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہی ہنگامہ خیز حالات میں ضیاء الرحمٰن ابھرے اور 1977 میں باضابطہ طور پر صدر بنے۔ سیاست میں ان کی آمد فوجی اقتدار کے ذریعے ہوئی، مگر انہوں نے بعد میں ایک سیاسی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) قائم کی تاکہ اقتدار کو سیاسی جواز دیا جا سکے۔ ان کا بیانیہ بنگلہ دیشی قوم پرستی، اسلامی شناخت کی بحالی اور معیشت میں نسبتاً آزادانہ پالیسیوں پر مبنی تھا، جو عوامی لیگ کے سیکولر قوم پرستانہ بیانیے سے مختلف تھا۔
خالدہ ضیاء سے ان کی شادی سیاست میں آنے سے پہلے ہو چکی تھی۔ خالدہ ضیاء ایک نجی زندگی گزار رہی تھیں اور ضیاء الرحمٰن کے دورِ اقتدار میں بھی وہ زیادہ تر پس منظر میں رہیں۔ 1981 میں جب ضیاء الرحمٰن ایک فوجی بغاوت میں قتل ہوئے تو بنگلہ دیش ایک بار پھر سیاسی بحران میں ڈوب گیا۔ اسی سانحے کے بعد خالدہ ضیاء کو سیاست میں لایا گیا اور وہ رفتہ رفتہ بی این پی کی قائد بن گئیں۔ ان کے بیٹے طارق الرحمن بعد میں پارٹی کے سینئر رہنما بنے اور 2000 کی دہائی میں ان پر بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوئے، جس کے بعد وہ بیرونِ ملک مقیم ہو گئے۔
ادھر عوامی لیگ کی قیادت شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کے پاس تھی۔ 1975 میں اپنے والد اور خاندان کے بیشتر افراد کے قتل کے وقت وہ بیرونِ ملک تھیں، اسی لیے زندہ بچ گئیں۔ 1980 کی دہائی میں وہ وطن واپس آئیں اور عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی۔ یوں بنگلہ دیش کی سیاست دو بڑی جماعتوں اور دو سیاسی خاندانوں کے گرد گھومنے لگی۔ 1990 کی دہائی میں فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خاتمے کے بعد جمہوری عمل بحال ہوا تو خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ کے درمیان اقتدار کی باریاں شروع ہوئیں۔ 1991 میں خالدہ ضیاء وزیر اعظم بنیں، 1996 میں شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں، 2001 میں دوبارہ بی این پی کی حکومت بنی اور 2009 سے عوامی لیگ مسلسل اقتدار میں رہی۔
یہ باریاں محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھیں بلکہ ایک گہرے سیاسی تصادم کی علامت تھیں۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر انتخابی دھاندلی، سیاسی انتقام اور اداروں کے استعمال کے الزامات عائد کیے۔ 2014 اور 2018 کے انتخابات خاص طور پر متنازع قرار پائے، جن میں اپوزیشن نے شفافیت پر سوالات اٹھائے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سیاسی ماحول پر تحفظات ظاہر کیے۔ تاہم عالمی منظر نامے میں یہ رائے موجود ہے کہ شیخ حسینہ کے دور میں معیشت نے نمایاں ترقی کی، گارمنٹس انڈسٹری میں اضافہ ہوا، اور کئی سماجی اشاریے بہتر ہوئے۔
حالیہ برسوں میں جب شیخ حسینہ کو شدید عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر وہ ملک سے ڈرامائی انداز میں فرار ہو گئیں تو اسے بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک نیا موڑ قرار دیا گیا۔ اس مرحلے پر طلبہ تنظیموں، نوجوان حلقوں اور عبوری صدر نے یہ مؤقف اپنایا کہ آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اب ایک نئی جمہوری فضا جنم لے گی۔ عبوری حکومت کے قیام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا کہ شاید بنگلہ دیش میں اب روایتی خاندانی سیاست سے ہٹ کر کوئی نئی قیادت ابھرے گی، اور نوجوانوں کا بیانیہ کامیاب ہوگا۔
انتخابات ہوئے، انتخابات میں اچھی ٹرن آؤٹ کو عوامی شرکت کی علامت سمجھا گیا۔ ووٹرز نے جس طرح اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگلہ دیشی معاشرہ سیاسی عمل سے لاتعلق نہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیاسی عمل واقعی ایک نئے باب کا آغاز ہے یا پھر بالآخر سیاست انہی دو بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہے گی؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں سیاسی جماعتیں محض نظریاتی پلیٹ فارم نہیں رہتیں بلکہ اکثر خاندانی تسلسل کا روپ اختیار کر لیتی ہیں۔ پاکستان میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی باریاں ہوں یا بھارت میں نہرو اور گاندھی خاندان کی سیاست، یہ رجحان نیا نہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ممکنہ سزاؤں کے باعث طارق الرحمن طویل عرصے سے وطن واپسی سے گریزاں رہے ہیں اور شیخ حسینہ بھی حالات کے نتیجے میں بیرون ملک قیام اختیار کر چکی ہیں، جسے ناقدین خود ساختہ جلاوطنی قرار دیتے ہیں۔ یہ منظر نامہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں شخصیات کا کردار اداروں سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کا بیانیہ واقعی مضبوط ہوتا ہے تو اسے صرف احتجاج یا سوشل میڈیا کی مہم تک محدود نہیں رہنا ہوگا بلکہ اسے تنظیمی ڈھانچے، شفاف قیادت اور واضح معاشی پروگرام کی صورت اختیار کرنا ہوگی۔
بنگلہ دیش کی معیشت گلوبل مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست اثر سرمایہ کاری اور برآمدات پر پڑتا ہے۔ اس تناظر میں مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے جمہوری مقابلے کو قبول کریں گی؟ انتخابات کے نتائج سے یہ تاثر ملتا ہے کہ روایتی سیاسی قوتیں اب بھی غالب ہیں بنگلہ دیش کی عوام نے ابھی ان موروثی سیاسی پارٹیوں سے ہٹ کر کچھ مستقل سوچا نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام نے ابھی ان موروثی جماعتوں سے ہٹ کر کسی مستقل متبادل کو قبول نہیں کیا، بہرحال اگر نئی قیادت پرانی روش اختیار کرتی ہے تو عوام کی امیدیں جلد مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ لیکن اگر سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات، عدالتی خودمختاری اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائیں تو بنگلہ دیش ایک مستحکم جمہوریت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
بطور مبصر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ روایتی دو جماعتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ بی این پی اور عوامی لیگ کی جڑیں گہری ہیں۔ حسینہ واجد کا جلد یا بدیر پاکستانی بدنامِ زمانہ "میثاقِ جمہوریت" کی طرز پر مستقبل میں دونوں جماعتوں کے درمیان کسی مفاہمتی فارمولا کے طے پاجانے کے نتیجے میں وطن واپسی ہرگز ناممکن نہیں۔ تاہم سیاسی تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب معاشرے میں نوجوانوں کی اکثریت تبدیلی کا مطالبہ کرے تو دیرپا تبدیلی ممکن ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جذبات کے بجائے ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے۔
بنگلہ دیش اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی تلخیاں اور مستقبل کی امیدیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ اگر سیاسی قیادت موروثی کشمکش سے نکل کر قومی مفاد کو ترجیح دے تو یہ ملک معاشی اور جمہوری دونوں حوالوں سے نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ کا پہیہ ایک بار پھر انہی ناموں کے گرد گھومتا رہے گا، اور عوام تبدیلی کے انتظار میں اگلی دہائی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔