منصورہ میں لانگ مارچ کا گھیرائو اسلام آباد جانے سے روکدیا گیا
جماعت اسلامی اور پنجاب حکومت میں مذاکرات بے نتیجہ ختم، لانگ مارچ کے شرکاء دو روز قیام کے بعد آج بدھ کواسلام آباد روانہ ہونگے، ہمیں اسلام آباد جا نے دیا جائے،حکومت اگرگرفتارکرتی ہے توکرلے: مولانا ہدائت الرحمن
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب حکومت نے بلوچستان سے مولانا ہدائت الرحمن کی زیر قیادت لاہور پہنچنے والے حقوق بلوچستان لانگ مارچ کو اسلام آباد جانے سے روک دیا، پنجاب پولیس کی بھاری نفری کا منصورہ کا گھیراوٓ ، واٹر کینن اورقیدی وینز تعینات کر دی گئیں،منصورہ آنے اور جانے والے تمام راستے بند کر دیئے ۔دوسری طرف جماعت اسلامی اور پنجاب حکومت کے درمیان مذاکرات میں حکومت کی طرف سے سینئرصوبائی وزیر مریم اورنگزیب، وزیرقانون پنجاب صہیب بھرت اور سلمان رفیق شریک ہوئے جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، امیرالعظیم اور ہدائت الرحمن بلوچ شریک ہوئے ،تاہم آخری اطلاعات تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے جبکہ جماعت اسلامی منصورہ سے’’حق دو بلوچستان مارچ‘‘نکالنے کے مطالبے پر قائم ہے اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء دو روز قیام کے بعد آج بدھ کواسلام آباد روانہ ہونگے،بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں،اگر حکمران طاقت کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ محبت کی بیج بودیں گے تویہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے،یہ کاررواں بلوچستان کے عوامی مسائل کے حل اور لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت بلوچستان سے ناانصافیوں کے ازالہ کیلئے ہے،حکومت سے مذاکرات ناکام یا ختم ہوئے نہ ہی کوئی ڈیڈ لاک ہے، مذاکرات میں صرف وقفہ ہے، انشااللہ لانگ مارچ طے شدہ پلان کیمطابق آگے بڑھے گا۔ہدائت الرحمن نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد جا نے دیا جائے،حکومت اگرگرفتارکرتی ہے توکرلے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم کے ہمراہ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ مولانا ہدائت الرحمن کا پرامن مارچ کوئٹہ سے شروع ہوا تو کسی قسم کی کوئی بدنظمی نہیں ہوئی جب پنجاب میں داخل ہوا تو راستے بند کر دیئے گئے اور مارچ کو روک لیا گیا لیکن کاررواں نے کہیں قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ، یہ عوام کے مسائل کیلئے اسلام آباد جانا چاہتے ہیں،اس کارواں کے ذریعے بلوچستان اور پنجاب کی درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کو گرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام امن چاہتے ہیں ،سرکاری ڈیتھ سکواڈ سے نجات چاہتے ہیں،لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہونا چاہیے ،یہ لانگ مارچ اسلام آباد یہی فریاد لے کر جارہا ہے انکی روٹی کیوں چھنی جارہی ہے،گوادر کو سی پیک کے فیز ون اور ٹو کا پورا حق دیا جائے،لوگ مررہے ہیں پینے کا صاف پانی نہیں ،عالمی معیار کا پورٹ بنانے سے گوادر کے مسائل حل نہیں ہونگے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد جا کر خواتین بھی اپنے حق کی بات کرتی ہیں تو ان پر بھی تشدد کیا جاتا ہے ،سکیورٹی کے نام پر بلوچوں کی تذلیل کرتے ہیں ،ہمارے پالیسی ساز اپنی ذہنی مائنڈ سیٹ کے ساتھ کسی مثبت چیز کو قومی وحدت کا ذریعہ نہیں بننے دیتے ، جو لوگ لاپتہ کردیئے جاتیہیں ان کے خاندان کی کوئی بات سننے والا نہیں،جماعت اسلامی نے اس لانگ مارچ کی پوری حمایت کا اعلان کیا ہے،یہ ایک معمہ ہے کہ لاہور سے آگے کیوں نہیں جانے دینا چاہتے۔لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چودھری سے بھی رابطہ ہوا ہے،بہت سے عناصر غلط رپورٹس کی بنیاد پر چیزوں کو بگاڑتے ہیں ، حکومتی قیادت ہمارے پاس آئی تھی انہوں نے اس لانگ مارچ کی مخالفت نہیں کی،ہم نے ان کو واضح کردیا شرکاء بدھ کو اسلام آباد روانہ ہوں گے۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی ہم سے بات کی اور کہا کہ وفاق اور پنجاب کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ امیرالعظیم نے پنجاب حکومت کی کارروائی کو اوچھے ہتھکنڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی جبر سے آواز کو دبایا نہیں جا سکتا،منصورہ کا گھیراوٓ فوری ختم کیا جائے۔ادھر امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے منصورہ کا محاصرہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے لانگ مارچ کو روکنے کے اقدامات، قابل مذمت اور شرمناک ہیں۔ پنجاب حکومت بلوچستان کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ان پر مظالم ڈھا رہی ہے،لاپتا افراد کے مسئلے سمیت دیگر مسائل حل اور ان کے جائز حقوق دیئے جائیں ،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبے کو پولیس سٹیٹ بنا دیا۔خیال رہے اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کا آغاز پانچ روز قبل کوئٹہ سے ہوا تھا۔