یمن میں بھارتی نرس نمیشا پریا کی پھانسی فی الحال مؤخر، سزا برقرار

یمن میں بھارتی نرس نمیشا پریا کی پھانسی فی الحال مؤخر، سزا برقرار

ویب ڈیسک: یمن میں سزائے موت کی منتظر بھارتی نرس نمیشا پریا کی پھانسی پر فی الحال عمل درآمد روک دیا گیا ہے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی سزا منسوخ نہیں کی گئی۔

بھارتی وزارت خارجہ کا مؤقف
وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا میں شائع خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا:"نمیشا پریا کی سزا ختم نہیں ہوئی، اس حوالے سے کوئی مستند نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔"
معاملے کی تفصیل
بھارتی میڈیا نے اس سے قبل بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مداخلت پر سزا منسوخ کر دی گئی ہے، نوٹیفکیشن آنا باقی ہے۔شیخ ابوبکر نے یمن کے مذہبی رہنماؤں اور حکومتی اہلکاروں سے رابطہ کر کے پھانسی رکوانے کی کوششیں کی تھیں۔نمیشا کو 16 جولائی 2025 کو سزائے موت دی جانی تھی۔
مقدمے کا پس منظر
نمیشا پریا پر 2018 میں اپنے یمنی بزنس پارٹنر طلال عبدو مہدی کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کا الزام تھا۔یمنی عدالت نے 2020 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی جسے صدر اور حوثی قیادت نے بھی منظور کیا۔
نمیشا پریا اور شیخ ابوبکر کا تعلق
نمیشا بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں اور 2008 میں روزگار کے لیے یمن گئی تھیں، جہاں انہوں نے ایک مقامی شخص کے ساتھ اسپتال قائم کیا تھا۔اختلافات کے باعث 2017 میں قتل کا واقعہ پیش آیا۔شیخ ابوبکر بھی کیرالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 94 سالہ بااثر مذہبی رہنما ہیں جو ان کی حمایت میں سرگرم ہیں۔