یمن:یمن کی عدالت نے بھارتی خاتون نرس نمیشا پریا کو قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، جس کی منظوری یمنی صدر راشد العلیمی نے دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، نمیشا پریا کی سزائے موت کی منظوری کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ خاتون کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔نمیشا پریا، بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں اور 2008 میں اپنے والدین کی مدد کے لیے یمن چلی گئی تھیں۔ یمن پہنچ کر، انہوں نے مختلف اسپتالوں میں کام کرنے کے بعد اپنا کلینک کھولا۔ 2014 میں، ان کا رابطہ یمنی شہری طلال عبدو مہدی سے ہوا، کیونکہ یمن میں کاروبار شروع کرنے کے لیے مقامی افراد کے ساتھ شراکت داری ضروری ہوتی ہے۔بعد میں، دونوں کے درمیان تعلقات بگڑنے پر نمیشا پریا نے طلال عبدو مہدی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد مہدی کو گرفتار کر لیا گیا، تاہم رہائی کے بعد وہ انہیں دھمکیاں دیتا رہا۔
2017 میں ان دونوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، اور نمیشا پریا نے مبینہ طور پر طلال عبدو مہدی کو نیند کا انجیکشن دیا تھا جس کے باعث وہ ہلاک ہو گیا۔نمیشا پریا کو یمن سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا، اور 2018 میں ان پر قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ 2020 میں صنعا کی ٹرائل کورٹ نے انہیں سزائے موت سنائی، جسے نومبر 2023 میں یمن کی سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی برقرار رکھا۔نمیشا پریا کی سزائے موت کو لے کر بھارت نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔