ویب ڈیسک: لیبیا کے ساحلی علاقے کے قریب غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی سمندر میں الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کشتی سمندر میں تیز لہروں کے باعث اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور 10 افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
ریسکیو آپریشن
لیبیا کی کوسٹ گارڈ اور مقامی ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں۔بین الاقوامی ادارے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
واقعے کی نوعیت
حکام کا کہنا ہے کہ کشتی میں سوار تمام افراد غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ حادثہ شمالی افریقہ سے یورپ جانے کے لیے سمندری راستے اختیار کرنے والے تارکین وطن کو درپیش خطرناک صورتحال کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
انسانی حقوق کے اداروں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اسمگلرز کی جانب سے انتہائی خطرناک سمندری راستوں کے استعمال کا نتیجہ ہے۔گزشتہ برسوں میں بھی ایسے متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں ہزاروں تارکین وطن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پس منظر
لیبیا کا ساحل یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے لوگ اکثر اٹلی یا مالٹا کا رخ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف رواں سال میں سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے سیکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔