ٹوٹتا قانون اور زخمی کوکھ

محمد ندیم بھٹی 

ماں کی ممتا ایک ایسا رشتہ ھے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ رشتہ اپنی گہرائی، سچائی اور قربانی کی مثال آپ ھے۔ مگر جدید دور میں جب اخلاقی زوال، مفاد پرستی اور جذباتی دیوالیہ پن عام ہو چکا ھے، تب یہی مقدس رشتہ بھی خود غرضی اور جرم کی بھینٹ چڑھنے لگا ھے۔ لاھور کے ایک پوش علاقے میں پیش آنے والا ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ کہانی صرف ایک جھوٹے رشتے کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی حقیقت ھے۔
عائشہ نامی ایک خاتون، جو بظاہر خوشحال اور مہذب طبقے سے تعلق رکھتی تھی، اندر سے ماں بننے کی حسرت میں بری طرح الجھی ھوئی تھی۔ وہ حسرت جو صرف اولاد کی خواہش نہیں تھی، بلکہ طاقت، ملکیت، اور شاید جائیداد کے خوابوں سے بھی جْڑی ہوئی تھی۔ اسی خواہش نے اسے ایک ایسا راستہ دکھایا جو جرم، فریب اور انسانی کمزوریوں کی گہرائیوں میں گرا ھوا تھا۔
عائشہ نے اپنی ملازمہ نسرین کو اعتماد میں لے کر ایک چالاک منصوبہ ترتیب دیا۔ نسرین، جو شادیوال گاؤں کی رہائشی تھی، سادہ دل اور  غریب ضرورت مند عورت تھی۔ اس کے شوہر کو دوبئی بھجوانے کا خواب، مالی مدد کے وعدے، اور سبیل لگانے جیسے دکھاوے اصل میں ایک ناپاک منصوبے کا حصہ تھے۔ سبیل، جو بظاہر نیکی کا کام تھی، اصل میں توجہ ہٹانے کا ذریعہ تھا، تاکہ قریبی گھر سے ایک نوزائیدہ بچہ اغوا کیا جا سکے۔ جرم مکمل ھوا، بچہ گم ہو گیا، اور ایک ماں کا سینہ خالی ہو گیا۔
لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری ردعمل دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے ویڑن کے تحت، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی۔  اس حساس  کیس  میں 15 کی کال کے بعد ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر محمد عمر نے ذاتی دلچسپی لی اور اس حساس کیس کی کمان خود سنبھالی۔ ان کی نگرانی میں ایس ایچ او ہنجروال عدیل انجم  نے جوائنٹ آپریشن  شروع  کیا جو عمل نہایت منظم، سائنسی اور شفاف انداز میں آگے بڑھا۔اور جب یہ کیس ایس پی  انویسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاؤن ڈویڑن سدرہ خان کی سرپرستی  میں آیا۔ جو نہ صرف باہمت خاتون افسر ھیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور انسانی احساس بھی ان کی پہچان ھے۔ ان کی ٹیم میں انویسٹی گیشن آفیسر محسن رفیق سمیت دیگر مستعد افسران شامل تھے۔ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج، ہسپتالوں کے ریکارڈ، مقامی گواھوں، اور سوشل سائیکلوجیکل عناصر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ خواتین پولیس افسران نے  نسرین کے متعلقہ مشتبہ خواتین کی حرکات و سکنات پر خصوصی توجہ دی، جس کے نتیجے میں جلد ہی نسرین کی موجودگی اور کردار واضح ہو گیا۔
نسرین نے بعد میں بچہ ھسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں چھوڑ دیا اور فرار ہو گئی۔ خدا کا شکر کہ بچہ بحفاظت مل گیا اور اس کی ماں سے ملحق ھو گیا — ایک منظر جو جذبات سے لبریز تھا، آنسوؤں اور دعاؤں سے بھرا ھوا۔ لیکن اس واقعہ نے صرف ایک ماں کو بچہ نہیں لوٹایا، اس نے معاشرے 
کے کئی سوالوں کو بھی جنم دیا۔
ہمارے معاشرے میں بانجھ پن کو جس طرح کا طعنہ اور معاشرتی داغ سمجھا جاتا ھے، وہ خواتین کو نفسیاتی دباؤ اور مجرمانہ راستوں کی طرف دھکیل دیتا ھے۔ اپنانا ایک قانونی اور انسانی عمل ھے، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خون کے رشتے کو ہی معیار سمجھا جاتا ھے۔ ایسے میں قانون، مذہب اور سماجی رویوں کی ازسرنو تشکیل کی ضرورت ھے تاکہ عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کی مشین نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک مکمل انسان تصور کیا جائے۔
یہ کیس گھریلو ملازمین کے مسائل کو بھی بے نقاب کرتا ھے۔ نسرین جیسے ہزاروں ملازمین، خاص طور پر خواتین، آج بھی لاعلمی، غربت، اور معاشرتی بے بسی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ھیں۔ جب کوئی مالدار یا بااثر شخص ان پر دباؤ ڈالتا ھے تو ان کے پاس انکار کا حوصلہ یا سہارا نہیں ھوتا۔ یہی وہ مقام ھے جہاں قانون، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو متحد ھو کر ان کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا اور موبائل ٹیکنالوجی نے جہاں مجرموں کو سہولت دی، وہیں پولیس کو سراغ رسانی میں بھی مدد دی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل سراغ نے عائشہ جیسی مجرمہ کا چہرہ بے نقاب کیا۔ اسی لیے آج کے دور میں ٹیکنالوجی کے صحیح اور غلط استعمال کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ھے۔اس واقعے نے ھسپتالوں میں بچوں کی حفاظت کے نظام کی خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ھے۔ حکومت کو چاہیے کہ پیدائش کے فوری بعد بچے کا ریکارڈ نادرا سے منسلک کیا جائے، اور تمام ہسپتالوں میں شناختی کارڈ پر مبنی آمدورفت کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ کوئی بچہ بغیر اجازت ھسپتال سے نہ نکل سکے اور نا ھی داخل ھو سکے۔
سب سے بڑھ کر، اس کیس میں جو پیشہ ورانہ سنجیدگی، دیانت اور خلوص دیکھنے کو ملا، وہ پنجاب پولیس کے ان افسروں کا طرہ امتیاز ھے جنہوں نے نہ صرف مجرم کو پکڑا، بلکہ انصاف، ہمدردی اور اعتماد کی فضا بھی بحال کی۔  بے شک
 یہ کیس مستقبل کے لیے ایک ماڈل انویسٹی گیشن قرار دیا جانا چاہیے، جس پر ٹریننگ ورکشاپس اور سیمینارز ترتیب دیے جائیں۔
ایس پی  ڈاکٹر محمد عمر اور ایس پی سدرہ خان سے اس کیس کے بارے  میں  تفصیلات  کے سلسلے  میں بات ھوئی  تو انہوں  نے بتایا جرائم کے پیچھے ہمیشہ ایک کہانی چھپی ھوتی ھے — کسی کے جذبات، محرومی یا دباؤ کی داستان۔ مگر قانون کا فرض ھے کہ وہ ان محرومیوں کو سمجھتے ھوئے بھی انصاف کا علم بلند رکھے۔ ماں بننے کی خواہش فطری ھے، مگر اس کے لیے چوری، فریب یا استحصال کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اور جو ماں بننے کی نعمت سے محروم ھیں، ان کے لیے معاشرے کو اپنانے جیسے راستوں کو آسان بنانا ھوگا، نہ کہ جرم کی طرف دھکیلنا۔
یہ کہانی صرف ایک جھوٹی ممتا اور چوری شدہ بچے کی نہیں — یہ ایک آئینہ ھے، جس میں ہم سب کو اپنے کردار، اپنی ترجیحات، اور اپنے نظام کو دیکھنے کی ضرورت ھے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ ایک وردی والے سچے لوگوں کا احسان ھے، جس نے صرف جرم نہیں روکا، بلکہ انسانیت کی لاج بھی رکھ لی۔