انسانی حقوق اور جنگل کا قانون

آئمہ محمود 
دنیا بھر میں ظلم، جبر، بھوک، جنگ اور تباہی کے جو دل خراش مناظر روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے گزرتے ہیں وہ ایک ہی سوال کو جنم دیتے ہیں کیا واقعی انسان نے وہ مہذب سفر طے کر لیا ہے جس کا دعویٰ جدید دنیا کرتی ہے؟ کیا وہ انسانی حقوق جنہیں عالمی اور آفاقی اصول کا درجہ دیا گیا تھا، آج بھی وہی حیثیت رکھتے ہیں جو 1948 میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کی تشکیل کے وقت مقصد تھا؟
بین الاقوامی انسانی حقوق کا چارٹر دراصل عالمی انسانی حقوق کے اعلامیے (UDHR) اور اس کے بعد بننے والے دو بنیادی معاہدوں، شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) اور  معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق (ICESCR) پر مشتمل ہے۔ 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ نے یہ اعلامیہ دوسری عالمی جنگ کے ہولناک حالات، ہولوکاسٹ اور نسل کشی جیسے دل دہلا دینے والے واقعات کے بعد اس امید کے ساتھ منظور کیا تھا کہ اب دنیا ایک ایسا نظام قائم کرے گی جہاں ہر انسان کی جان، عزت، آزادی اور مساوات کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔
لیکن افسوس! وہ خواب آج بھی ادھورا ہے۔
اکیسویں صدی کی بے مثال سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، عالمی اداروں کے پھیلتے ہوئے کردار اور انسانیت کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود دنیا آج بھی عدم تحفظ، خوف اور محرومی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ فلسطین اور خصوصاً غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت نے عالمی ضمیر کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ ہزاروں معصوم بچوں کی لاشیں، تباہ شدہ بستیاں، کھنڈر بنتے ہسپتال اور خوراک سے محروم انسان ! 
یہ سب کچھ انسانی حقوق کے عالمی نظام پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی خاموشی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ طاقتور عالمی سیاست پر قابض ہیں اور کمزور آج بھی بے بس۔ انسانیت کا مقدر اب بھی جنگل کے قانون کے رحم و کرم پر ہے۔جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔
کہا جاتا ہے کہ انسان نے ترقی کر لی۔ مگر یہ ترقی ہے کن کے لیے؟
دنیا کے بڑے حصے میں انسان آج بھی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے سسک رہا ہے۔ کووڈ-19 کے دوران ہم نے دیکھا کہ پوری دنیا کے جدید نظام ایک وبا کے سامنے کس طرح بے بس نظر آئے۔ کروڑوں لوگ بیماری، بھوک اور بے روزگاری کے ہاتھوں لقمٓ اجل بن گئے۔صحت کے میدان میں بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ آج بھی اربوں افراد شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسے امراض کے علاج تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں صرف ملیریا کی وجہ سے 6 لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیحالانکہ ملیریا ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب علاج موجود ہے تو پھر یہ اموات کیوں؟ ان جانوں کا ذمہ دار کون؟
صاف پانی تک رسائی، عالمی غربت، بے روزگاری، ماحولیاتی تباہی، دہشت گردی، معاشرتی ناہمواری، صنفی تفریق اور بدعنوانی نے انسان کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جہاں اسے محض زندہ رہنے کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔
اگر خواتین اور بچوں کے حقوق کی بات کی جائے تو صورتحال اور بھی المناک ہے۔ دنیا بھر میں عورتوں اور بچوں کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، آن لائن بلیک میلنگ، تیزاب گردی، غیرت کے نام پر قتل،انسانی اسمگلنگ ، جبری مشقت اور معاشرتی جبر یہ سب کچھ ثابت کرتا ہے کہ صدیوں کی جدوجہد کے باوجود عورت آج بھی غیر محفوظ ہے۔ رپورٹس کے مطابق  غذائی قلت اور غذائی بحران کے باعث دنیا میں ہر سال لاکھوں بچوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ 
سائبر کرائم نے ذہنی تشدد کو نئی شکل دے دی ہے، اور اس کے باعث نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی اور خودکشی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ تعلیم کے بنیادی حق کی بات کریں تو ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کا نظام بے شمار چیلنجز کا شکار ہے جس کی وجہ سے کروڑوں بچے اور نوجوان معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے جو بچوں کو اسکول جانے کے بجائے کم عمری میں محنت مزدوری پر مجبور کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ وسائل کی کمی، ناکافی تعلیمی بجٹ اور کمزور تعلیمی ڈھانچہ بھی تعلیمی معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی، اور پالیسیوں کا غیر مؤثر نفاذ تعلیمی نظام کو مزید کمزور کرتا ہے۔خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو بھی سماجی رویوں، کم عمری کی شادیوں، اور عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے صنفی تفاوت مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کی راہ میں موجود یہ چیلنجز نہ صرف ان کی سماجی و معاشی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی پیش رفت کے لیے بھی سنگین رکاوٹ بنے ہوئے ہیں
سوال یہ ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے؟انسانی حقوق کے عالمی قوانین بے اثر کیوں ہیں؟
دنیا میں انسانیت پیچھے کیوں دھکیل دی گئی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو جنگ، بھوک، افلاس،محرومی، نفرت، دہشت گردی، استحصال اور عدم مساوات کے سوا کچھ نہیں دیا۔ عالمی ادارے ہوں یا انسانی حقوق کے قوانین یہ سب اس وقت تک محض کتابی باتیں رہیں گے جب تک طاقت اور دولت دنیا کے چند مراکز کے ہاتھوں میں مرکوز رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیاں بڑھ رہی ہیں اور عالمی برادری خاموش ہے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر کے محنت کش، خواتین،غریب عوام، کسان، طلبہ، دانشور، غیر جانبدار میڈیا اور مظلوم قومیں اس غیر منصفانہ نظام کے خلاف متحد ہوں۔ انسانی حقوق کی حقیقی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب طاقت اور دولت کے غیر مساوی ڈھانچے کو چیلنج کیا جائے۔دنیا کو ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں برابری، انصاف، امن اور احترامِ انسانیت بنیادی اصول ہوں۔ صرف اسی صورت میں انسانیت کو اس درندگی اور بربریت سے نجات دلائی جا سکتی ہے جو آج ہمارے معاشروں کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔
اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلیں شاید یہ سوال کریں’’کیا واقعی انسان کبھی مہذب ہوا تھا؟‘‘