قانون کی حکمرانی، گورننس، غربت، تعلیم اور بے روزگاری کے چیلنجز

 عبداللہ ملک
پاکستان اس وقت متعدد سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی، اچھی گورننس، غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ صرف معاشی شرحِ نمو سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ عام شہری کو انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتیں کس حد تک میسر ہیں۔قانون کی حکمرانی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی، انصاف تک آسان رسائی، سرکاری اداروں کی جواب دہی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہیں۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025 کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا۔ یہ درجہ بندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے شعبوں میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔اچھی گورننس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری ادارے شفافیت، میرٹ، دیانت داری اور عوامی مفاد کے مطابق کام کریں۔ بدعنوانی، اختیارات کا غیر ضروری استعمال، سرکاری معاملات میں تاخیر اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہونا شہریوں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق مؤثر انداز میں فراہم کیا جائے۔

معاشی صورتِ حال بھی عام شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی قومی غربت کی شرح تقریباً 22.5 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا، جبکہ مالی سال 2024 میں یہ شرح 25.3 فیصد تھی۔ اس تخمینی کمی کے باوجود لاکھوں خاندان غربت، کم آمدنی اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی مشکلات سے دوچار ہیں۔ دیہی علاقوں، مزدور طبقے اور کم آمدنی والے گھرانوں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مہنگائی نے بھی عام آدمی کی قوتِ خرید پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آٹا، بجلی، گیس، ادویات، کرایہ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات بہت سے خاندانوں کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں کمی آنا ایک مثبت معاشی پیش رفت ہو سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پہلے والی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ عوام کی آمدنی میں اضافہ ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور بنیادی اشیا عام شہری کی پہنچ میں رہیں۔


تعلیم کے شعبے میں صورتِ حال خصوصی تشویش کا باعث ہے۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی تعدادوں میں سے ایک ہے، اور پاکستان اس حوالے سے دوسرے نمبر پر بتایا جاتا ہے۔ جب لاکھوں بچے تعلیم سے محروم رہیں تو ان کے بہتر مستقبل، روزگار اور ملک کی معاشی ترقی کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو سرکاری تعلیم کے بجٹ میں اضافہ، اسکولوں کی سہولتوں میں بہتری اور بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

بے روزگاری، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تھی۔ تاہم صرف اس شرح سے روزگار کی مکمل صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، کیونکہ بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں یا کم آمدنی اور غیر محفوظ ملازمتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم، کاروبار کے مواقع اور میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے مسائل کا حل صرف وقتی معاشی اقدامات میں نہیں بلکہ طویل المدتی اصلاحات میں ہے۔ حکومت کو قانون کی بالادستی، شفاف انتظامیہ، مؤثر احتساب، معیاری تعلیم، روزگار کی فراہمی اور غریب طبقے کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری، سرکاری اخراجات میں شفافیت اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال سے بھی معاشی استحکام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کی ترقی کا اصل معیار عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ جب شہری کو بروقت انصاف ملے، بچے اسکول جائیں، نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے، بنیادی ضروریات قابلِ برداشت ہوں اور سرکاری ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، تب ہی ایک منصفانہ، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔