’’سینئر سیٹیزن ویلفیئر ایکٹ‘‘ کا نفاذ، بزرگوں کے لیے امید کی ایک کرن

فرزانہ چودھری

پارک کی ایک پرانی بینچ پر بیٹھے، کانپتے ہاتھوں سے اپنی چھڑی تھامے ہوئے، سفید داڑھی والے بابا جی کی آنکھیں کہیں کھوئی ہوئی تھیں۔ ان کے قریب بیٹھے ایک بچے نے معصومیت سے پوچھا:’’دادا جی! آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟‘‘بابا جی مسکرائے، مگر وہ مسکراہٹ تھکی ہوئی تھی۔’’بیٹا! ہم نے اپنی ساری زندگی اس ملک کے لیے لگا دی، اب بڑھاپے میں ریاست ہماری زندگی آسان بنا دے۔ یہی دعا ہے۔‘‘ بابا جی  کے دل کی آواز پنجاب کے لاکھوں بزرگ شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے، جو عزت، سہولت اور تحفظ کے چند بنیادی حقوق کے لیے برسوں سے منتظر ہیں۔یہ چند الفاظ ایک تلخ حقیقت کی مانند ہیں۔بزرگ وہ خزانے ہیں جن کے انعامات مالی نہیں بلکہ عمرانی، اخلاقی اور جذباتی ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم ان کی خدمت کرتے ہیں۔خواہ قانون کے تحت ہو یا خاندانی ذمہ داری کے تحت، تو ہم نہ صرف ان کے ماضی کا حق ادا کر رہے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بھی روشن کر رہے ہیں۔معاشرے کی پہچان صرف اس کی ترقی یافتہ عمارتوں، جدید سہولتوں یا تیز رفتار ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بزرگ وہ درخت ہیں جن کی چھاؤں میں آج کی نسل پروان چڑھی ہے۔ ان کی خدمت، عزت اور سہولت دینا محض اخلاقی فرض نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری ہے۔
بزرگ وہ روشنی ہیں جو گھر کے اندھیروں کو اُمید میں بدل دیتی ہے۔وہ سایہ دار درخت ہیں جن کے تنے وقت کے طوفانوں سے جھک تو جاتے ہیں، مگر اپنی جڑوں سے خاندان کو مضبوطی دیتے ہیں۔ان کے جھریوں بھرے چہرے قربانیوں اور دعاؤں کی کہانیاں سناتے ہیں،اور ان کے کانپتے ہاتھ زندگی کی سب سے قیمتی دولت،تجربہ اور محبت ہمیں منتقل کرتے ہیں۔
’’فاونڈیشن فار ایجنگ اینڈ  انکلیسیو ڈیپارٹمنٹ ) (FAID  کے ایڈووکیسی آفیسر محمد بلال جو بزرگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے، ان مسائل کے حل اور  اگاہی مہم کے حوالے سے بہت  سیمینارز اور میڈیا ورکشاپ کا انقعاد کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بزرگوں کے مسائل اور سینئر سیٹیزنز ایکٹ کے حوالے سے کئی  چیزیں شیئر کیں اور بزرگوںکے سبجیکٹ کو  اہم قرار دیا۔  ان کا کہنا ہے کہ   سوائے پنجاب کے پاکستان  کے باقی تمام صوبوں میں سینئر سیٹیزنز ایکٹ کا نفاذ چند سال پہلے ہوچکا ہے   جبکہ پنجاب  آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے  اور  یہاں بزرگوں کی تعداد بھی زیادہ ہے  اور پنجاب  میں ابھی تک’’ سینئر سیٹیزن ویلفیئر ایکٹ‘‘ پنجاب اسمبلی سے تا حال منظور نہیں ہوا۔ ’’ سینئر سیٹیزن ویلفیئر ایکٹ ‘‘ ایک مثبت اور فلاحی قانون ہے جو پاکستان میں بزرگ شہریوں کے حقوق کی فراہمی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ یہ قانون اگر صحیح معنوں میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف بزرگ شہریوں کی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ معاشرے میں احترامِ بزرگ اور سماجی ذمہ داری کے مثبت رویوں کو بھی فروغ ملے گا۔
پاکستان میں عمر رسیدہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب میں بزرگ افراد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر بدقسمتی سے انہیں صحت، آمد و رفت، سماجی تحفظ اور مالی معاونت جیسے بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا رہتا ہے۔ انہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے  سینئر سٹیزنز ایکٹ  متعارف کرایا گیا، جو ایک اہم قانون سازی ہے جس کا مقصد بزرگ شہریوں کے لیے سہولیات اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔خیبرپختونخوا نے 2014 میں "سینئر سٹیزن ایکٹ" پاس کیا گیا، جس کے تحت بزرگ شہریوں کو خصوصی کارڈز، سفری سہولتوں میں رعایت، علاج معالجے اور فلاحی مراعات دی جاتی ہیں۔سندھ میں 2016 میں یہ ایکٹ منظور ہوا، جس کے تحت بزرگ شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات میں سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔بلوچستان  میں بھی اس حوالے سے  20مئی 2017 میں قانون سازی کی گئی، جس کے نتیجے میں وہاں بزرگ شہریوں کے لیے الاؤنس اور فلاحی اقدامات شروع کیے گئے۔اسلام آباد’’ سینئر سٹیزنز ایکٹ‘‘ 2021 میں  منظور ہوا ۔ پنجاب کے بزرگ شہری سفری رعایت، علاج معالجے میں سہولتیں اور ماہانہ الاؤنس جیسے حقوق سے محروم ہیں، جو دوسرے صوبوں کے بزرگ شہری حاصل کر رہے ہیں۔  پنجاب کے بزرگوں کو  ’’ سینئر سیٹیزنز ویلفیئر ایکٹ‘‘ کے نفاذ کا  ایک طویل عرصہ سے انتظار ہے، 
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے  جس میں تقریبا 7فیصد بزرگوں کی آبادی ہے اور پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔پاکستان  میں 2023 مردم شماری کے مطابق پنجاب کی کل آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے جائزوں کے مطابق، اس آبادی کا کم از کم 6 فیصد ساتھ  سال سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے  یعنی 76 لاکھ بزرگ شہری اس وقت پمجاب میں زندگی گزار رہے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد مالی، طبی اور سماجی تحفط سے محروم ہے ۔  پنجاب میں بزرگوں کے لیے کوئی قانون نہیں ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔ 
 پنجاب کی زمین پر جب کبھی ترقی، مساوات اور فلاحی ریاست کی بات ہوتی ہے، تو ایک طبقہ ہمیشہ پسِ پشت رہ جاتا ہے  وہ ہمارے بزرگ ہیں، جنہوں نے یہ ملک بنایا، اسے سنوارا، اداروں کو پروان چڑھایا، نسلوں کی تربیت کی، اور آج جب ان کی عمر خدمت کے بدلے عزت، سہارا اور سکون مانگتی ہے، تو پنجاب حکومت ان کے لیے خاموش نظر آتی ہے۔پنجاب میں تاحال کوئی باقاعدہ’’ سینئر سیتیزنز ویلفیئر ایکٹ‘‘ نافذ نہیں کیا گیا حالانکہ 2013 سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں اس بل پر بات ہوتی رہی ہے ۔یہ بل 2014 اور اب 2025 میں بھی پیش کیا گیا ، مگر  بل منظور نہیں ہوا ہے ۔حکومت کی جانب سے بجٹ کے بوجھ کا جواز پیش کرنا۔قانون سازی کے عمل کو بزرگ شہریوں کے مسائل پر ترجیح نہ دینا۔اسمبلی کی تحلیل اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بل بار بار التوا کا شکار ہوا۔اس تاخیر کے باعث پنجاب کے بزرگ شہری دیگر صوبوں کے مقابلے میں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہیں علاج، سفری رعایت، ماہانہ وظیفہ اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے 
لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے۔ بڑھاپے کی  عمر میں وہ ریاست سے صرف یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ سمجھا جائے۔ 
’’ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ ‘‘ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کو مختلف سہولیات اور حقوق دینے کے لیے بنایا گیا۔ یہ قانون دراصل معاشرے میں بزرگوں کو   فعال کردار دینے، ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور ان کے وقار کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ایکٹ کے مطابق 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے شہری ایک سینئر سٹیزن کارڈ حاصل کر سکتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں سرکاری میوزیمز، پارک اور لائبریریوں میں مفت داخلہ,ریلوے اور فضائی سفر پر 20% رعایت,سرکاری و نیم سرکاری اسپتالوں میں الگ کاؤنٹر، مفت یا رعایتی ادویات، لیبارٹری ٹیسٹوں پر رعایت,نجی اسپتالوں اور لیبارٹریز میں بھی 20% تک رعایت کی فراہمی,انکم ٹیکس میں رعایت (مخصوص حالات میں),مختلف سرکاری محکموں میں ایکسپریس لائن کے ذریعے فوری سروس کی سہولیات میسر ہوں گی ۔ پنجاب حکومت ضرورت مند اور بے سہارا بزرگ شہریوں کے لیے  دار الشفقت کے نام سے اولڈ ایج ہوم قائم کرے گی۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کو بھی اس سلسلے میں ترغیب دی جائے گی تاکہ عمر رسیدہ افراد کو رہائش، علاج اور دیکھ بھال فراہم کی جا سکے۔اس ایکٹ کے تحت  سینئر سیٹیزنز فنڈ قائم کیا جائے گا، جو مالی امداد، صحت کی سہولیات اور دیگر فلاحی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوگا۔ اس فنڈ کو حکومتی بجٹ، ڈونیشنز اور زکوٰۃ فنڈ سے تقویت فراہم کی جا سکتی ہے۔بزرگ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک  Grievance Committee  بھی قائم کی جائے گی ۔ یہ کمیٹی بزرگ افراد کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں تیز رفتار انصاف فراہم کرے گی۔
پنجاب کا سینئر سٹیزن ویلفیئر بل نہ صرف قانون سازی کی ایک دستاویز ہے بلکہ ایک عہد ہے کہ بزرگوں کو عزت، سہولت اور تحفظ کے ساتھ وہ مقام واپس دلایا جائے جو ان کا حق ہے۔ یہ صرف ایک بل نہیں بلکہ ایک ایسا خواب ہے، جو حقیقت بننے کا منتظر ہے۔پنجاب حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر یہ ایکٹ اسمبلی میں منظور کرے اور بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی کارڈ کا اجرا کرے۔سرکاری اسپتالوں میں مفت یا رعایتی علاج کی سہولت فراہم کرے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں مفت یا کم کرایہ مقرر کرے۔مالی لحاظ سے کمزور بزرگ شہریوں کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے۔یہ ایکٹ عمر رسیدہ شہریوں کے لیے سہولیات اور باوقارِ زندگی فراہم کرنے کا حکومت کا ایک بڑا اقدام ثابت ہوگا۔ اگر اس پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے تو بزرگ شہریوں کو صحت اور مالی تحفظ حاصل ہوگا ،سرکاری اداروں میں ان کی عزتِ نفس بحال ہوگی ۔بزرگ افراد کے لیے سماجی شرکت اور تفریحی مواقع بڑھیں گے۔
 اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پنجاب کا’’ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ  اُمید کی  ایک کرن ہے۔  اگر اس قانون پر مکمل عمل درآمد ہو، تو بزرگ شہریوں کے لیے زندگی آسان اور بامقصد بن سکتی ہے۔  ضرورت  اس بات کی ہے کہ حکومت، ادارے اور ہر فرد مل کر اس قانون کو عملی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اولاد اور معاشرہ، دونوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے والدین اور بزرگوں کا سہارا بنیں۔فلاحی ادارے جیسے کہ FAID اور دیگر این جی اوز، بزرگ شہریوں کی فلاح کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے ذریعے صحت کیمپ، مشاورت مراکز اور سماجی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں، تاکہ بزرگ معاشرتی تنہائی سے نکل سکیں اور اپنے تجربے کو معاشرے کی ترقی میں استعمال کر سکیں۔

یہ بات درست ہے کہ پنجاب  حکومت چند سہولتیں  بزرگوں کو فراہم کر ریی ہیمگر ادویات کی فراہمی ، او پی ڈیز اور  ان کے لیے  بینک  ہسپتال میںخصوصی کاونٹرز کی سہولت فراہم کرنا کافی نہیں ہے ۔لاکھوں بزرگ شہری علاج، سفر اور مالی مدد جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔آج پنجاب کے لاکھوں بزرگ شہری علاج کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں، بسوں میں دھکے کھاتے ہیں اور بڑھاپے کے خرچ کے لیے دوسروں کے محتاج ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی میں محنت کی، ٹیکس دیا، ملک کے لیے پسینہ بہایا، مگر بڑھاپے میں انہیں صرف انتظار کا تحفہ ملا ہے۔
 پنجاب میںاگر چہ براہ راست صرف بزرگ  شہریوں کے لیے مخصوص  اسکیمیں محدود ہیں ، تاہم  وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب میں سماجی فلاح کے بڑے پروگرام شروع کیے ہیں جن سے بزرگ افراد بھی مستفید ہو  سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اہلیت پوری کریں  مثلا مریم کی دسک، ستھرا پنجاب، اپنی چھت اپنا گھر اور فلاحی پروگرامز کے لیے مستحق افراد  کا ڈیٹا بیس(PSER) قابل ذکر ہیں۔آج اگر سینئر سیٹیزنز ویلفیئر ایکٹ کو قانون کا درجہ نہ دیا تو کل نہ صرف لاکھوں  بزرگ سہولیات سے محروم رہیں گے بلکہ  ہم ایک بے حس ریاست کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔
ہمارا معاشرہ جدیدیت کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے  مگر اس ترقی نے خاندان کے روایتی نظام کو کمزور کر دیا ہے  والدین جو کبھی گھر کا مرکز ہوتے تھے آج کئی گھروں میں ینہائی اور  لاچاری کا شکار ہیں ۔  بزرگ نہ صرف گھر کے سطح پر ، سوسائٹی  کی سطح پر بلکہ  حکومتی پالیسیز کی سطح پر بھی نظر اندز کیے جاتے ہیں۔اکثر کہا جاتا ہے کہ "بزرگ درخت کی مانند ہوتے ہیں، جن کی جڑیں ماضی میں اور شاخیں حال میں زندگی کو سایہ اور سہارا دیتی ہیں۔" مگر بدقسمتی سے جب یہ درخت کمزور ہو جاتے ہیں تو معاشرہ انہیں بے سہارگی کے اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔ماں باپ کے لیے صرف مالی مدد کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے جذبات کو سمجھنا اور ان کی عزت کرنا بھی ضروری ہے۔ بزرگ والدین معاشرے کا سرمایہ ہیں ان کی خدمت اور احترام صرف اولاد کی نہیں بلکہ حکومت اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے اگر اولاد ، حکومت اور فلاحی ادارے ملکر کام کریں تو ہم نہ صرف بزرگوںکو باوقار زندگی دے سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ والدین کا احترام اور ان کی خدمت کامیاب معاشرے کی بنیا دہے ۔ پنجاب حکومت نے جو بنیاد رکھی ہے اسے مکمل کرنے کا فرض صرف  حکومت کے کندھوں پر نہیں بلکہ ہر شہری، خاندان اور فلاحی اداروں پر عائد ہوتا ہے۔ اس خدمت میں ان کے وقار کا تحفظ، معاشرتی ہم آہنگی اور ہمارے ایمان کا  عکاس ہے ۔