ڈاکٹر جاوید اقبال
ریاست کے بڑے نظام اکثر شور سے نہیں ، خاموشی سے بدلتے ہیں۔فائلوں کے انبار ، میٹنگز کے طویل سلسلے اور فیصلوں کی باریک لکیروں میں کہیں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو بغیر کسی دعوے کے تبدیلی کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔محکمہ صحت پنجاب میں بھی ایک ایسی ہی خاموش مگر مؤثر جدوجہد جاری ہے ، جس کی قیادت محترمہ نادیہ ثاقب سیکریٹری صحت کر رہی ہیں۔آپ نے اپنے کام کے ذریعے سپر سی ایم کے انتخاب پر مہر ثبت کر دی ہے۔محکمہ صحت کا مشکل میدان جہاں ہر دن کسی امتحان سے کم نہیں ہے ، وہاں فیصلے کاغذ پر نہیں ، انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ایک طرف وسائل کی کمی ، دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی اور بیماریوں کا دباؤ ، ایسے میں بہتری کی بات کرنا آسان نہیں مگر بعض لوگ حالات کے تابع نہیں ہوتے بلکہ حالات کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔باکمال ، لاجواب ، مخلصی ، عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال میڈم نادیہ ثاقب کی قیادت میں سرکاری ہسپتالوں میں نظم و ضبط کی بحالی ایک سنجیدہ کاوش ہے۔وہ ہسپتال جو کبھی لاپروائی اور بدانتظامی کی علامت سمجھے جاتے تھے وہاں اب حاضری اور کارکردگی کو مانیٹر کرنے کا مضبوط نظام وضع کیا گیا ہے ، گویا سفید کوٹ کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کی ایک کوشش جاری ہے لیکن اصل تبدیلی صرف نظام میں نہیں ، رویوں میں آتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ میڈم وزیراعلی پنجاب کی قیادت میں مریضوں کے حقوق اور ان کی عزتِ نفس کو ترجیح دینے والی پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔محکمہ صحت کی موجودہ ٹیم دن رات اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ ایک مریض جو ہسپتال کے دروازے پر امید لے کر آتا ہے ، اسے کم از کم یہ یقین تو ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کیا جائے گا ، نہ کہ اسے ایک بوجھ یا ‘‘کیس’’ کے طور پر لیا جائے گا۔محکمہ صحت میں ان لازوال کاموں کے ساتھ ساتھ شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی مضبوط ، شکایات کا فوری ازالہ ، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور کسی بھی کوتاہی پر فوری نوٹس جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظام کو محض چلانا نہیں ، بہتر بنانا بھی مقصود ہے۔محکمہ صحت میں جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ڈیجیٹل اصطلاحات کا آغاز بھی ایک اہم قدم ہے ، مریضوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ، ہسپتال مینجمنٹ ، سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ، یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ محکمہ صحت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کی بہتری ، مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور طبی عملے کی پیشہ ورانہ و اخلاقی تربیت ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر چھوٹے لگتے ہیں مگر درحقیقت ایک بڑے انقلاب کی بنیاد ہوتے ہیں کیونکہ صحت کا نظام عمارتوں سے نہیں ، انسانوں سے بنتا ہے۔یہاں یہ کہنا درست ہوگا۔سفر ابھی مکمل نہیں ہوا ، چیلنجز بدستور موجود ہیں ، مسائل اپنی جگہ قائم ہیں اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہیضروری بات یہ ہے کہ جب سمت درست ہو تو منزل تک پہنچنا مشکل ضرور ہوتا ہے ناممکن نہیں۔آج جب ہم محکمہ صحت کی خامیوں پر بات کرتے ہیں تو ان لوگوں کو سراہا جائے جو ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔
ایکٹو ، انرجیٹک ، دبنگ--میڈم نادیہ ثاقب انہی کرداروں میں سے ایک ہیں ، جن کو پنجاب کے تمام ڈی ایچ کیوز ، ٹی ایچ کیوز اسپتالوں میں موجود ڈاکٹر ، سٹاف نرسز ، پیرامیڈیکل سٹاف ، طبی عملہ ، مشینری الغرض ہر شے فنگر ٹپس پر یاد ہے۔آپ شاید خبروں کی زینت کم بنتی ہیں مگر نظام کی بہتری میں آپ کا کردار نمایاں ہے۔محکمہ صحت پنجاب میں آپ امید کی کرن ہیں۔آپ ہی کی شبانہ روز محنت کی بدولت پنجاب کے دور دراز علاقوں سمیت لاہور کے مضافات میں واقع اسپتال 24/7 مستعدی سے کام کر رہے ہیں جبھی تو بچپن سے سنتے آئے ان تلخ جملوں کو سننے سے ہماری جان چھوٹ گئی ہے کہ اس مریض نے نہیں بچنا اسے لاہور لے جائیں۔