جنگ میں وقفہ۔۔۔۔ امید کی کرن

 امجد علی
تاریکی، خوف اور غیر یقینی کی نمائندہ وہ رات بالآخر اپنے انجام کو پہنچی۔ صبح نو کے ساتھ ایک امید افزا خبر سامنے ائی، جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پندرہ روز کے لیے جنگ بندی طے پا گئی ہے۔  یہ پیغام عالمی فضا میں ایک تازہ سانس، ایک نئی آکسیجن کی مانند محسوس ہوا، جیسے گھٹن زدہ ماحول میں زندگی کو نئی مہلت مل گئی ہو۔
 شروع میں فریقین کی طرف سے خاموشی رہی۔ مگر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد امریکہ کی جانب سے بھی اس کی تصدیق سامنے آ گئی، پھر اور وقفے کے بعد ایران نے بھی اس عارضی جنگ بندی پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ یوں مختلف اطراف سے آنے والی تصدیقات نے اس حقیقت کو مضبوط کر دیا کہ دنیا ایک بڑے خطرے کے دہانے سے واپس پلٹنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ 
یہ پیش رفت محض سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کی دعاؤں، آرزؤں، اضطراب اور امن کی مشترکہ خواہش کا ثمر معلوم ہوتی ہے۔ ایک ایسی دنیا، جو چند لمحے پہلے تک تباہی کے کنارے پر کھڑی تھی، اب قدرے سکون اور معمول کی طرف لوٹنے کے لیے پر امید لگ رہی ہے۔
ہم بالخصوص ایرانی عوام کے لیے خوش ہیں، جو گزشتہ کتنے ایام سے آگ اور گولہ بارود کے بارش میں زندگی گزار رہے تھے، ہر لمحہ اس خوف کے ساتھ کہ نہ جانے کب کوئی بم گرے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ اب اس عارضی جنگ بندی کے بعد انہیں ایک بار پھر تحفظ کا احساس نصیب ہوا ہے، اور شاید زندگی تھوڑی مدت کے لیے ہی سہی، مگر خوف سے آزاد سانس لے سکے گی۔
مسلسل بمباری، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھمکیوں کے ماحول میں فریقین کے درمیان صلح یا کم از کم وقتی جنگ بندی کا معاہدہ بلاشبہ ایک نہایت مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر جہاں ہر لمحہ تباہی کے بادل منڈلا رہے تھے، یہ پیش رفت ایک اجتماعی راحت اور سکون کا پیغام لائی ہے۔

اس کامیابی کے پس پردہ جاری رہنے والی مسلسل سفارتی کاوشیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کوششوں میں پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم جناب شہباز شریف کی بیمثال قیادت میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کی شبانہ روز محنت، سنجیدہ حکمت عملی اور متوازن مؤقف نے فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے، تلخ لہجوں کو نرم بنانے اور اتفاق رائے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چند یورپی ممالک، عرب ریاستیں اور چین بھی خاموش مگر مؤثر بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھانے میں شریک رہے۔ یہ ایک مشترکہ عالمی کوشش تھی، جسے دنیا بھر میں قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے ایران کی اہم شرائط کو تسلیم کرنا بھی اس پیش رفت میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے جنگ بندی کی راہ کو ہموار کیا۔ دوسری جانب ایران نے بھی دانشمندی اور فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔
یوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے، تناؤ کو کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں جن ممالک نے کردار ادا کیا، "خصوصاً پاکستان اور اس کی قیادت" وہ سب بجا طور پر لائق تحسین ہیں۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ اگر سنجیدہ سفارتکاری، حکمت اور نیک نیتی یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی سلجھایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ کوششیں جاری رہیں تو جنگ عارضی وقفے سے مکمل خاتمے کا سفر بھی طے کر سکتی ہے۔  سردست ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ مثبت اشاریے آگے بھی پیش قدمی کریں گے اور صورت حال میں مزید بہتری آئے گی۔  درایں اثنا ایران کو امریکی اور اسرائیل کی مکاریوں، مسلسل وعدہ خلاف ورزیوں (پائلٹ ریسکیو جیسے سمارٹ خطرناک مووز) کو مدنظر رکھتے بہر وقت ہر طرح کی صورت حال کے لیے چوکنا اور تیار رہنا ہو گا

یہ زمین، جو اربوں انسانوں کی آماجگاہ اور ان کے خوابوں کا مسکن ہے، اپنی فطرت میں امن کی طلبگار ہے۔ یہ کسی ایٹمی تصادم کی ہولناکی کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کی آغوش میں بسنے والے انسان خواہشوں، امیدوں اور خوشیوں کے امین ہیں، نہ کہ تباہی کے متلاشی۔
اسی لیے ناگزیر ہے کہ سب سے پہلے کوئی بھی ریاست جارحیت اور غاصبانہ طرز عمل سے باز رہے۔ اور اگر کہیں اختلافات جنم لے بھی لیں تو دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں ہر صورت مکالمے، تدبر اور سفارتی طرز عمل سے حل کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے بلکہ انسانیت کے مستقبل کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ 

 وسائل کی بے جا فراوانی اور اندھی طاقت کے نشے نے آخر اس دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟ زمین، جو کبھی زندگی کے رنگوں سے مہکتی تھی، آج ایک عجیب دو رخا منظر پیش کر رہی ہے۔ ایک طرف معصوم نھنی خواہشوں کی نرم کونپلیں ہیں، اور دوسری طرف فولاد، آگ اور بارود کی بے حس فصلیں۔
کہیں دور کسی کارخانے کی بھاری مشینیں مسلسل گونجتی ہیں، وہاں کتابیں نہیں چھپتیں، خواب نہیں بنے جاتے، بلکہ آہنی پرندے تراشے جاتے ہیں، جن کے پروں پر موت کی پرچھائیاں ہوتی ہیں۔ میزائلوں کے جسم میں بارود بھرا جاتا ہے، اور وار ہیڈز کے اندر قیامت کی چنگاریاں بھر دی جاتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے زمین کی کوکھ سے گندم غلہ نہیں، بلکہ جنگی بارود اور سازوسامان اگنے لگا ہو۔
ادھر کسی گلی میں ایک بچہ ہنستے ہوئے آسمان کو دیکھتا ہے، اس کی آنکھوں میں کل کے سنہرے خواب لرزتے ہیں۔ مگر اسی آسمان کے نیچے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بدمزاج فیصلے ساز، اس کے انہی خوابوں کے لیے اندھیرے بن رہے ہوتے ہیں۔ وہ انجانے میں ان معصوم زندگیوں کے لیے ایک ایسا منظر تیار کرتے رہتے ہیں، جہاں ہنسی کی جگہ سناٹا، اور کھیل کی جگہ موت بکھری پڑی ہو۔


یہ کیسی دنیا ہے جہاں ایک طرف زندگی مسکراتی ہے اور دوسری طرف اسی زندگی کے لیے خاموشی سے شمشان گھاٹ کی تیاری مکمل کی جاتی ہے؟ جہاں انسان نے اپنی عقل کو تعمیر میں لگانے کی بجائے جہنم کے گڑھے تیار کرنے میں لگا دیا ہے، مگر ابھی وقت مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلا، ابھی بھی انسانی اقدار پکارتی ہیں کہ زمین کو بارود نہیں، محبت چاہیے، اسے جنگی نعروں اور بارود کی گھن گرج نہیں، امن کی فاختاؤں کی سرگوشیاں درکار ہیں۔
اگر آج بھی ہم نے مفاہمت، بردباری اور تحمل کو اپنی ترجیح نہ بنایا، اور انسانیت، محبت اور زندگی کو مرکزی قدر نہ مانا، تو بعید نہیں کہ یہی زمین اپنے ہی ہاتھوں جہنم کا حقیقی گڑھا بن جائے۔ دنیا کی مقتدر طاقتیں، بشمول امریکہ، اگر وسائل کے تسلط کی دوڑ میں احترام آدمیت کو پس پشت ڈال رہی ہیں، تو کم از کم انہیں اپنی معیشت کے بنیادی ستون سمجھ کر ہی ان انسانوں کو تباہی سے محفوظ رکھیں، کیونکہ یہی زندہ معاشرے دراصل ان کے لیے ترقی اور مالی استحکام کا سرچشمہ ہیں، ڈالر اچھالتی منڈیاں ہیں
تاریخ بار بار ہمیں متنبہ کرتی آئی ہے کہ طاقت کا بے مہار استعمال ہمیشہ تباہی کو جنم دیتا ہے۔ ہیروشیما ناگاساکی کی تباہی کی یاد آج بھی دل دہلا دیتی ہے اس لیے اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر مکمل پابندی کے لیے سنجیدہ اور عملی قدم اٹھائے، اور ہر ملک اپنے ایٹمی ذخائر کے خاتمے پر اتفاق رائے پیدا کرے، انہیں تلف کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو ایسی ہولناک راتوں سے بچا سکتا ہے، اور اسی میں، انسان اور انسانیت کی بقا ہے۔۔۔
اب پاکستان کی قیادت میں باقی ممالک کو مل کر عالمی سفارت کاری کے ذریعے امن کوششوں کو جاری رکھنا ہو گا اور معصوم انسانی جانوں کے لیے اس زمین کو محفوظ کرنا ہوگا۔۔۔۔