سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کادریاکبھی رکتانہیں،اس کابہاصدیوں کی داستانوں اورقوموں کے عروج وزوال کواپنے ساتھ بہالے جاتاہے۔اس کے بہامیں صدیوں کی کہانیاں اورقوموں کی تقدیریں ایک دوسرے کے ساتھ بہتی چلی آتی ہیں۔کبھی ایک قوم عروج کی منزل پرفائزدکھائی دیتی ہے توکبھی دوسری قوم زوال کی پاتال میں جاگرتی ہے۔کبھی ایک قوم فلک بوس عمارتوں اورعلم وفن کی روشنی سے دنیاکومنور کرتی ہے اورکبھی وہی قوم اندھیروں کی قیدمیں جاگرتی ہے لیکن ایک حقیقت ہمیشہ اپنی جگہ برقراررہتی ہے کہ طاقتورہمیشہ اپنی طاقت کے نشے میں کمزورپرغالب آتاہے اوراپنے ظلم کے جوازمیں نت نئی تاویلات تراشتاہے۔کبھی تہذیب کی ترویج کے بہانے،کبھی جمہوریت کے پھیلاکے نام پراورکبھی دہشتگردی کے خاتمے کی اوٹ میں۔
دنیاکی تاریخ ایک عظیم کتاب ہے جس کے اوراق خون اورآنسوں سے لکھے گئے ہیں۔ہرصفحہ ہمیں یہی بتاتاہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کوپہنچتاہے تومظلوم کے دل سے نکلی دعاکائنات کے توازن کوبدل دیتی ہے۔ماضی کی تہذیبیں،سلطنتیں اورطاقتورحکمران آج مٹی کا رزق بن چکے ہیں،مگران کے مظالم کی داستانیں آج بھی اہلِ بصیرت کیلئے عبرت کاسامان ہیں ۔اس جہانِ رنگ وبومیں طاقتورہمیشہ کمزورپرغالب آنے کی کوشش کرتارہاہے اوراپنی جارحیت کوکسی نہ کسی نام سے مزین کرتاآیاہے۔کبھی تہذیب کاپرچم،کبھی جمہوریت کانعرہ اورکبھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کابہانہ۔آج بھی وہی کھیل جاری ہے۔نیتن یاہوکاحالیہ بیان اسی پرانی داستان کانیا باب ہیایک ایساباب جوخون کی سیاہی سے لکھاگیاہے اور جس کے پس منظرمیں پوری مسلم دنیاکودھمکی کاپیغام دیاگیاہے۔
جیساکہ اقبال نے کہاتھا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
اورحال کی صدائے دل بھی یادآتی ہے:
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کااورہی اندازہے
مشرق ومغرب میں تیرے دورکاآغازہے
مگرایک بات ہردورمیں مسلم رہی ہے کہ طاقتوراپنی طاقت کے نشے میں کمزورکوروندتارہاہے،اوراپنے ظلم کی تاویل میں نعرے تراشتارہاہے۔کبھی تہذیب کاعلم،کبھی جمہوریت کی مشعل،اورکبھی دہشتگردی کے خاتمے کابہانہ۔آج کے حالات بھی اس تاریخی تکرار سے الگ نہیں۔
گزشتہ چنددنوں سے نیتن یاہوکاایک ویڈیوپیغام دنیابھرمیں موضوعِ بحث ہے۔اس پیغام میں نائن الیون کے سانحے کاحوالہ دیکرقطرپر اسرائیلی حملے کاجوازپیش کرنے کی کوشش کی ۔یہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی نئی بساط پررکھے گئے مہرے کی جھلک ہے۔نیتن یاہونے اپنے دومنٹ کے بیان میں کہاکہ اسرائیل نے وہی کیاجوامریکا نے نائن الیون کے بعدکیاتھا۔امریکانے افغانستان پرحملہ کر کے القاعدہ کے مراکزتباہ کیے اورپھرپاکستان میں گھس کراسامہ بن لادن کومارڈالا۔یہ الفاظ بظاہرایک موازنہ ہیں مگر دراصل آئندہ کے خطرات کی نشاندہی اورپیش گوئی ہیں۔قطرکونشانہ بناکرپاکستان کاحوالہ دیناگویاکل کی سازشوں کادروازہ کھول دیناہے۔گویاقطرآج کا ہدف ہے اورپاکستان کل کا۔
یہ کوئی نئی روش نہیں،یہی توطاقتورقوموں کی پرانی حکمتِ عملی ہے۔تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توہرطاقتورنے ظلم کیلئے کسی نہ کسی بہانے کوڈھال بنایاہے۔وہ اپنے ظلم کیلئے کسی واقعے کوجوازبناتی ہیں،پھراس جوازکواتنادہراتی ہیں کہ کمزورقومیں خودکومجرم سمجھنے لگتی ہیں۔صلیبی جنگوں میں مذہب کوبہانہ بنایاگیا،نوآبادیاتی دورمیں تہذیب کے فروغ کادعویٰ اور پرچار کیاگیا،اوراب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرعالمِ اسلام کونشانہ ہی نہیں بنایاجارہا بلکہ کچلاجارہاہے۔
قطرنے بروقت فوری ردعمل دیاکہ حماس کے دفترکی میزبانی اس کی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ امریکی واسرائیلی درخواست پر ثالثی کے تناظرمیں تھی۔گویاوہی طاقتیں جوکل قطرکے دروازے پرثالثی کی بھیک مانگ رہی تھیں،آج اسی کوغداری اوردہشتگردی کا مرکزکہہ رہی ہیں۔یہ وہی وعدہ شکنی اورسفارتی وعدہ شکنی ہے جوسفارتکاری کی بنیادوں کوکھوکھلااور تعلقات کی بنیادیں متزلزل کردیتی ہے ۔یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ جب قطرمیں امریکاکاسب سے بڑا فضائی اڈہ’’العدید‘‘موجودہے،توکیایہ حملہ ٹرمپ یاامریکی انتظامیہ کی لاعلمی میں ہوسکتاتھا؟تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتوں کے اشارے کے بغیرچھوٹی طاقتوں کی جرات نہیں کہ وہ ایسا قدم اٹھاسکیں۔بڑی طاقتوں کی خاموشی اکثران کی رضامندی کا دوسرانام ہوتی ہے۔یہ خاموشی دراصل ایک پوشیدہ اقرارِجرم ہے۔
نیتن یاہوکاجملہ کہ دہشتگردوں کوہمارے حوالے کرویاہم کارروائی کریں گے محض قطرکیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے ایک دھمکی ہے۔کیایہ ممکن نہیں کہ کل یہی زبان پاکستان کے خلاف استعمال ہو؟کیایہ بعیدہے کہ امریکا،بھارت اوراسرائیل کااتحادپاکستان کواسی طرح نشانے پرلے جیسے عراق،شام اورلیبیاکوبنایاگیا؟
یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی ہے کہ پاکستان قطرنہیں اوراسرائیل امریکانہیں۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ایک نظریاتی ریاست ہے،اور ایک ایسی قوم ہے جواپنی جڑوں میں دینی حمیت اورتہذیبی غیرت رکھتی ہے۔اورایک ایسی سرزمین ہے جواپنے وجودمیں ہی ایک انقلاب کی صدارکھتی ہے۔لیکن کیادشمن ان حقائق کونظراندازنہیں کرسکتا؟کیاوہ سازشوں کے جال میں پاکستان کوگھیرنے کی کوشش نہیں کرے گا؟یہ حقیقت اس بات کی ضامن نہیں کہ دشمن خاموش بیٹھے گا۔خاص طورپرایسے وقت میں جب مودی اپنی شکست کے بعد بدلے کی آگ میں جل رہاہے۔مئی2025کی جنگ میں یہودوہنودکی ہزیمت گویاان کے دل پرداغ کی مانندثبت ہوگئی ہے۔پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست نے بھارت کے غرورکوتوڑڈالاہے۔مودی بارباردھمکی دے رہاہے کہ وہ بدلہ ضرورلے گااب اگروہ اسرائیل اورامریکاکے کندھے استعمال کرے توکیایہ خطے کوایک نئی آگ میں جھونکنے کے مترادف نہ ہوگا؟
یہی بات اقبال نے یوں کہی:
ربط وضبطِ مِلتِ بیضاہے مشرق کی نجات
ایشیاوالے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
تاریخ صرف واقعات کی فہرست نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے،جس میں اقوام اپنی غلطیاں اورکامیابیاں دیکھ کراپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔امتِ مسلمہ کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب ہم نے اتحاداورایمان کواپنی بنیادبنایا،دنیاکی کوئی طاقت ہمارے سامنے کھڑی نہ ہوسکی۔لیکن جب ہم تفرقے میں مبتلاہوئے،دشمن نے ہمیں شکست دی اورغلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
خلافتِ عثمانیہ چھ صدیوں تک مسلمانوں کی عظمت اورطاقت کی علامت رہی۔تین براعظموں پرپھیلی اس خلافت نے نہ صرف مسلمانوں کوایک پرچم تلے جمع کیابلکہ یورپ کی طاقتوں کوبھی کئی صدیوں تک اپنی پالیسیوں پرنظرِثانی کرنے پرمجبورکیالیکن جب اندرونی اختلافات،مغربی سازشیں اورقوم پرستی کے فتنے سراٹھانے لگے تویہ خلافت کمزورہوتی گئی۔بالآخرپہلی جنگِ عظیم کے بعدخلافت کازوال ہوااورمسلم دنیاٹکڑوں میں بٹ گئی۔اس زوال نے مسلمانوں کویہ سبق دیا کہ اگرامت اپنی وحدت کھودے تواس کی عظمت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔
صلیبی جنگوں کازمانہ بھی تاریخ کاایک روشن باب ہے۔جب صلیبی طاقتیں بیت المقدس پرقابض ہوئیں توامت پراندھیراچھا گیا۔مگرصلاح الدین ایوبی نے اپنے ایمان،اخلاص اورعسکری حکمتِ عملی کے ذریعے وہ کارنامہ انجام دیاجسے دنیاآج بھی یادکرتی ہے۔اس نے صرف بیت المقدس کوآزادنہیں کرایابلکہ امت کویہ پیغام دیاکہ ایمان کی حرارت اورعزمِ صمیم سے ناممکن کوممکن بنایاجاسکتاہے۔آج کے دورمیں امت کوپھراسی جذبے اوریکجہتی کی ضرورت ہے جوصلاح الدین کی قیادت میں ظاہرہوئی تھی۔
برصغیرکی تاریخ میں جنگِ آزادی1857ایک عظیم موڑتھا۔یہ وہ وقت تھاجب مسلمان اورہندودونوں نے مل کرانگریز سامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلندکیا۔اگرچہ یہ جنگ کامیاب نہ ہوسکی اورلاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا، مگراس نے آزادی کی بنیادرکھ دی۔یہ جنگ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قربانی اورعزم کے بغیرآزادی کی نعمت حاصل نہیں ہوتی۔پاکستان کاقیام اسی جنگِ آزادی کی ایک طویل جدوجہدکاثمرہے۔
1258میں جب منگولوں نے بغدادپرحملہ کیاتوخلافتِ عباسیہ کاخاتمہ ہوگیا۔لاکھوں مسلمان شہیدہوئے اوراسلامی دنیاکا علمی وتہذیبی مرکزخاک میں مل گیا۔مگراسی بربادی کے بعدمسلمان دوبارہ اٹھے اورنئی سلطنتیں قائم کیں۔یہ واقعہ اس بات کاغمازہے کہ زوال کے بعدبھی اگرامت ایمان اورعلم کواپناہتھیاربنائے تودوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔
(جاری ہے)