آلو کی 3 لاکھ روپے ایکڑ کی فصل کوئی 50 ہزار میں لینے کو تیار نہیں: کاشت کار

آلو کی 3 لاکھ روپے ایکڑ کی فصل کوئی 50 ہزار میں لینے کو تیار نہیں: کاشت کار

لاہور: پاکستان میں آلو کی قیمتوں میں شدید کمی کے باعث کاشتکاروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

 زرعی ماہرین اور کسانوں کے مطابق ایک ایکڑ پر آلو کی پیداوار کی لاگت تقریباً 2.5 سے 3 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جس میں بیج، کھاد، مزدوری، پانی اور دیگر اخراجات شامل ہیں، لیکن موجودہ مارکیٹ میں آلو کی خریداری قیمت بہت کم رہ گئی ہے۔ کئی علاقے میں آلو کے 50 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے بھی خریدار نہیں مل رہے، جس سے کاشتکار مکمل خسارے کا شکار ہیں۔کاشتکاروں نے بتایا کہ گزشتہ فصل میں منافع کی کمی اور گھاٹے کی وجہ سے وہ نئی فصل لگانے سے قاصر ہیں، کیونکہ فصل کی پیداوار کے اخراجات بھی پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام طور پر سارا منافع درمیانی بیچنے والے (مڈل مین) اٹھاتے ہیں، لیکن اس بار نہ صرف کاشتکار بلکہ مڈل مین بھی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے نقصان میں ہیں۔

زرعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آلو کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا اثر دیگر سبزیوں اور غذائی اجناس پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے ملکی زرعی معیشت اور کسانوں کی زندگی متاثر ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کو محفوظ مارکیٹ اور منصفانہ قیمتیں فراہم کی جا سکیں اور زرعی شعبہ خسارے سے نکل سکے۔یہ صورتحال ملک میں غذائی تحفظ اور کسانوں کی مالی حالت کے لیے سنگین چیلنج پیدا کر رہی ہے، کیونکہ کسان نئی فصل لگانے سے گریز کرتے ہیں تو آئندہ موسم میں پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھنے یا خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔