آپا منزہ جاوید
یہ سرحدیں محض زمین پر کھینچی گئی لکیریں نہیں ہیں۔ یہ مٹی کے وہ مقدس حصے ہیں جن پر کسی قوم کی عزت، خودداری اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ یہ وہ امانت ہیں جو نسلوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی ہیں، اور جن کی حفاظت کے لیے تاریخ نے ہمیشہ قربانی مانگی ہے۔ پاکستان کی سرحدیں بھی ایسی ہی ایک امانت ہیں—اور ان امانتوں کے محافظ پاک فوج کے شہداء ہیں، وہ جو سرحدوں کے اصل امین ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہنستے مسکراتے زندگی کو الوداع کہا۔ جنہوں نے اپنے آرام، اپنے خواب، اپنے گھر، اپنی ماں کی گود، اپنے بچوں کی معصوم مسکراہٹ اور اپنی شریکِ حیات کی دعاؤں کو وطن کی سلامتی پر قربان کر دیا۔
وہ جانتے تھے کہ واپسی یقینی نہیں، مگر پھر بھی وہ نکلے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ نہ نکلیں تو یہ مٹی، یہ پرچم، یہ اذان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
قرآنِ مجید ہمیں یہ سچ بار بار یاد دلاتا ہے کہ شہادت کوئی انجام نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
‘‘اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔’’
(سور? آلِ عمران: 169)
یہ آیت صرف تسلی نہیں بلکہ ایک اعلان ہے کہ جو وطن اور حق کی حفاظت میں جان دیتا ہے وہ کبھی مر نہیں سکتا۔
جب ہم سکون سے اپنے بستروں میں سو جاتے ہیں، تو کء جوان سرحد پر جاگ رہے ہوتے ہیں
جب ہم اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر ان کی نیند کی فکر کرتے ہیں، تو کوئی ماں اپنے بیٹے کی سلامتی کے لیے رات بھر دعائیں مانگ رہی ہوتی ہے۔
جب ہم عید کی خوشیوں میں نئے کپڑے پہن کر مسکراتے ہیں، تو کسی گھر میں شہادت صبر کے ساتھ آن کھڑی ہوتی ہے—
اور مائیں بیویاں خاموشی، وقار اور مضبوط صبر کے ساتھ پرچم میں لپٹے جسد خاکی وصول کرتی ہیں۔اور فخر کرتی ہیں ان کا بیٹا 'شوہر اور بچوں کا باپ شہادت کا لباس پہن کر الل? کے حضور حاضر ھو چکا ہے
قرآنِ مجید ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
‘‘اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے۔’’
(سور? البقرہ: 154)
یہی وہ زندہ لوگ ہیں جو قوموں کی تاریخ بدل دیتے ہیں۔
یہی وہ چراغ ہیں جو خود جل کر آنے والی نسلوں کا راستہ روشن کرتے ہیں۔
پاک فوج کے شہداء نے وطن کو صرف ایک ملک نہیں سمجھا، انہوں نے اسے ماں کا درجہ دیا۔ اور ماں کی حفاظت سودے بازی سے نہیں ہوتی، قربانی سے ہوتی ہے۔
ان کا لہو اس مٹی کی حرمت ہے۔ ان کے جنازے ہماری آزادی کی قیمت ہیں۔ اور ان کے نام ہماری تاریخ کا روشن باب۔
یہ شہداء کسی ایک دن کی یادگار نہیں، یہ ہر اْس لمحے کے امین ہیں جب ہم آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں، جب ہم بلا خوف اپنے گھروں میں رہتے ہیں، جب ہمارے اسکول، مسجدیں اور بازار امن کی تصویر بنے رہتے ہیں۔
مگر افسوس، ہم اکثر شہداء کو صرف تصویروں اور تقاریر تک محدود کر دیتے ہیں۔ ہم ان کے نام تو لیتے ہیں، مگر ان کے مقصد کو بھول جاتے ہیں۔
ہم پر فرض ہے کہ ہم ان شہداء کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے مقصد کے امین بنیں۔
ایمان—جو ہمیں حق اور باطل میں فرق سکھائے۔
اتحاد—جو ہمیں ایک قوم بنائے، نہ کہ بکھرے ہوئے مفادات کا ہجوم۔
قربانی—جو ہمیں اپنی ذات سے بلند کرے۔
وطن سے وفاداری—جو ہمیں ہر حال میں اس مٹی کا حق ادا کرنے پر آمادہ رکھے۔
شہداء نے اپنی جان دے دی، اب ہماری باری ہے کہ ہم اپنی نیت، اپنا کردار اور اپنا رویہ درست کریں۔ یہی ان کے خون کا اصل قرض ہے۔
سلام ہے اْن ماؤں کو جنہوں نے جگر کے ٹکڑے وطن پر نچھاور کیے۔
سلام ہے اْن بیویوں کو جنہوں نے آنسوؤں کو حوصلہ بنایا۔
سلام ہے اْن بچوں کو جنہوں نے باپ کا سایہ قوم کے نام کر دیا۔
اور سلام ہے اْن سرحدوں کے امینوں کو جو رب کے حضور زندہ ہیں اور قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ????
پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندہ باد