رانا محمد نعیم ایڈووکیٹ
زیادہ پرانی بات نہیں ہمارے ازلی دشمن ملک کا فائٹر پائلٹ ابھینندن میزائلوں سے لیس لڑاکا طیارے پہ سوار وطن عزیز پہ حملہ آور ہوا ،ہمارے سورماؤں نے نہ صرف اسے دھول چٹائی بلکہ عام شہریوں تک کے ھاتھوں تھپڑوں اور ٹھڈوں سے تواضع اور بزدل بچوں کی طرح چیخیں ہم سب کی یاداشت کا حصہ ہیں لیکن اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے جب سفارتکاری، ہمارے حکمرانوں کی اعصابی کمزوری یا بین الاقوامی قوانین کے زیر اثر ،،چائے کا ایک تاریخی کپ ،،پلا کر اسے واہگے کے راستے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تو بارڈر پر اس کا ایسا فقید المثال استقبال ہوا گویا وہ پاکستان سے اپنا طیارہ ،گرا،تھپڑ کھا اور چیخیں مارتا ہوا نہیں بلکہ چکلالہ فتح کر کے جنگی ترانے پڑھتا ہوا گیا ہے۔اسے ہندوستانی فوج کے اعلیٰ ترین اعزاز پرم ویر چکر سے نوازا گیا ،ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں اس کی بھرپور عوامی اور حکومتی تحسین کی گئی ،ملک کے تقریباً تمام ہی قابل ذکر فضائی اڈوں پہ اسکی تصاویر آویزاں کرتے ہوئے خیرمقدمی تقاریب کا اہتمام ہوا،نصابی کتب میں اسکی جھوٹی جرآت و بہادری کی دیومالائی داستانیں شامل کروائی گئیں گویا اسے فاتح ڈھاکہ جنرل اروڑہ کے بالمقابل لا کھڑا کیا ،ایسا ہی سلوک ان سپاہیوں کی بازیابی پہ کیا گیا جو چین بھارت سرحدی تنازعہ پر چینی قید میں منہ میں گدھوں والی لگاموں سمیت دھاڑیں مار کر روتے ہوئے تمام دنیا نے دیکھے لیکن ہموطنوں نے انہیں بھی پرتھوی راج اور رانا سانگا بنا کر پوجا۔
کیا ہندوستانی حکومت اور فوج نہیں جانتی کہ ان کے ان درشنی پہلوانوں کی حریفوں کے ہاتھوں کیا درگت بنی اور کس طرح انھوں نے ہندو قوم کا نام نہاد ہی سہی غرور و فخر مٹی میں ملایا؟لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے اپنی قوم اور اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے پوری سنجیدگی سے مردانگی اور فتح کے شادیانے بجائے اور ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی اداکاری کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے شرمناک کارکردگی اور بدترین ہزیمت کے باوجود اپنے سپاہیوں کی حوصلہ شکنی کی تو انکی عوام اور ملک کے لیے لڑنے والوں کی ہمت ٹوٹ جائیگی اور بیدلی کا شکار ہو کر وطن کے لیے لڑنے اور جانیں داؤ پر لگانے کا جزبہ ماند پڑ سکتا ہے اس لیے جانتے بوجھتے ہوئے بھی وہ اپنے بزدل بھگوڑوں تک کی بھرپور پزیرائی کرتے نظر آتے ہیں۔پوری دنیا میں نامعلوم معافظوں کی یادگاریں اور ان سے منسوب بہادری اور قربانی کی محیر العقول داستانیں اسی مقصد کے لیے گھڑی جاتی ہیں کہ وطن کی خاطر لڑنے اور مرنے کا جزبہ کم نہ ہو۔
یہ تو دنیا کا چلن ہے ایک ہم ہیں کہ اتنے نادان اور احسان فراموش ہوچکے کہ خود ہماری خاطر جان جیسی انمول چیز تک قربان کر ڈالنے والے سپاہیوں کی قربانیوں کو ماتھے کا جھومر ،آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور بنانے کی بجائے اپنے حقیر گروہی،سیاسی مفادات کے لیے ان عظیم قربانیوں کا ٹھٹہ اڑاتے ہیں۔خود اپنے محافظوں کا ایسا تمسخرانہ ذکر کرتے ہیں گویا وہ ہمارے لئے نہیں انڈیا اور اسرائیل کے لئے کام کر رہے ہوں۔سپاہ اور سپاہی کو گالی فیشن اور ماڈرن ہونے کی علامت بن چکی،انکی شہادتوں کو قہقہوں میں اڑایا جاتا ہے،کچھ بیشرم حکمرانوں نے تو بیحسی و بے حمیتی کی ساری لکیریں عبور کرتے ہوئے شہداء کے جنازوں تک میں جانا چھوڑ دیا۔دنیا اپنے ولن کو ہیرو اور ہم کرنل شیر خان جیسے ہیرو کے مجسموں کی توہین کرتے ہیں جن کی لازوال جرات و بہادری کی شہادت دشمنوں تک نے دی۔
ہم میں سے کتنے ہوں گے جو کسی بھی قیمت پہ اپنی گردن تو کجا ہاتھ پاؤں یا انگلی ہی کٹوانے پہ راضی ہوں گے؟کیا ہمارے معاشرے میں ایسی مائیں نہیں جنہوں نے ایک کے بعد دوسرے لخت جگر کو وطن کی حرمت اور ہموطنوں کی حفاظت کی خاطر پیش کیا؟ایثار کی عظیم مثالیں جنہوں نے شوہروں کے بعد بیٹوں کو بھی شہادت گاہوں کو روانہ کیا ،ایسے بوڑھے باپ جنہوں نے اپنے آخری سہاروں کو اپنے لرزتے ہاتھوں سے مٹی کے سپرد کر دیا اور ایسی سہاگنیں جنہوں نے سہاگ رات ہی کو اپنے سہاگوں کو شہادتوں کی منزلوں کی جانب رخصت کیا اور ایسے نوخیز و نومولود جو پیدا ہی یتیم ہوئے ،ان کے دلوں پہ کیسے نشتر چلتے اور کیا کیا کانٹے نہ چبھتے ہوں گے کہ جب ان کی لازوال قربانیوں کے جواب میں جن کی خاطر وہ اپنوں کو بے سہارا ،بیوہ اور یتیم چھوڑ کر جان تک سے گزر گے، انہیں غاصب،لالچی اور عوام دشمن تک کہہ گزریں۔کبھی اس ماں کی اذیت کا تصور کریں جس نے اپنے کڑیل بیٹے کو ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے رزم گاہ کو روانہ کیا اور پھر اسے محض اپنے نور نظر کی لہو رنگ ،چھلنی بنی ادھ جلی وردی ہی ملی کہ اسکا لخت جگر کسی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ریزہ ریزہ ہو کر فضاؤں میں بکھر گیا ،باقی بچیں تو اسکی مہکتی اور سْلگتی یادیں اور عمر بھر کی آنسوؤں کی لڑیاں،اس سہاگن کا کرب جسے چند دنوں کے رفاقت کے بعد عمر بھر کی بیوگی جھیلنی پڑی اور اس یتیم کی کسک جو نہیں جانتا کہ شفقت و سایہ پدری کیا ہوتا ہے،کبھی اس بہن کا خیال کریں جس کا بھائی اسکی ڈولی اٹھانے کا کہہ کر گھر سے نکلا اور چار کندھوں پر واپس اپنے آنگن آ اترا،جس کے سہرے کے پھول اسکی قبر پر ڈالنے پڑے ہوں۔
کتنا آسان ہے یہ کہہ دینا کہ جان دینے ہی کو بھرتی کیے جاتے ہیں ،جان پہ کھیلنا ان کا فرض ہے اور کتنا جاں گسل ہے عشق کی ان کٹھن راہوں اور جان تک سے گزر جانا۔
ہمارے یہ رویے اور الفاظ ان غاریوں اور شہداء کے لواحقین کے سینے کیسے چھلنی کرتے ہیں ،اگر خدانخواستہ کبھی یہ مایوس و بد دل ہو گئے تو ہماری آزادیوں ،عصمتوں ،عافیتوں اور ہماری اور ہماری محبتوں کے دشمنوں کے درمیان شہداء کے مقدس لہو کی حفاظتی خندق خشک ہو گی تو جو حالات ہوں گے ان کا سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے ،کیسے عراق ،شام لبنان اور فلسطین کے مظلوموں کو پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے مکھیوں اور مچھروں کی طرح مسلا ،میزائلوں سے اڑایا ،گولیوں سے بھونا اور فاسفورس بموں سے اڑایا جا رہا ہے وہ بھی بچوں بوڑھوں ،عورتوں اور انسانیت کے لئے کام کرتے رضاکاروں کی تفریق ،مساجد ہسپتالوں اور اقوام متحدہ کی پناہگاہوں کی تمیز کے بغیر کہ ان کی ڈھال ٹوٹ اور حفاظتی قلعہ مسمار ہو چکا، وہ بیرحم اور بے اصول دشمن کے رحم و کرم پر ہیں جو جان نکلنے سے پہلے ہی ان کی بوٹیاں نوچ رہا ہے۔
اس سے پہلے کہ واقعی دیر ہو جائے قدر کریں ان محافظوں کی جو ہمارے سکون کی خاطر لڑ رہے ہیں ،کٹ رہے ہیں اور مر رہے ہیں،وادی لیپا سے وادی نیلم کی روح تک اترتی ٹھنڈک اور تورخم و چمن کے دشت و بیبانوں میں انتہائی قلیل وسائل اور ناکافی اسلحہ کیساتھ یہ ہمارے جوانوں کا خالص جزبہ، وطن سے محبت اور قوم سے تحسین کے چند جملے ہی ہیں جن کے سہارے ہمارے یہ مجاہد ہمارے وجود اور مقدس سرحدوں کے دشمنوں اور پاکستانیوں کے امن اور خون کے پیاسوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔زمین کے اس خطہ جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے کے سوا ہمارے لئے کوئی جائے پناہ اور جائے امان نہیں ،اپنے قرب و جوار اور اطراف میں نظر تو دوڑائیں خیر خواہ تو چھوڑیں
ہم تو خون آشام بھیڑیوں میں گھرے ہیں جو ہر دم اس تاک میں ہیں کہ کب ہماری حفاظتی فصیل میں شگاف پڑے اور کب وہ ہماری تکہ بوٹی کر دیں،
دنیا کے اکیس امیر ترین ممالک کی جدید اسلحہ سے لیس افواج جو کام افغانستان میں نہ کر سکیں وہی کام ہمارے محافظوں نے اپنے جزبہ ایمانی اور حب الوطنی سے شمالی علاقہ جات جو عرصہ تک علاقہ غیر گردانے جاتے رہے میں کر کے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔اس کامیابی کی کتنی بھاری قیمت ادا کی گئی شاید ہی ہم میں سے کوئی اس سے آگاہ ہو،صرف ایک وادی تیراہ کو وطن کے دشمنوں سے پاک کرنے کی خاطر مسلح افواج کے کم و بیش ساڑھے تین ہزار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔پوری دنیا میں معرکوں کے دوران سپاہی اور افسران کی شہادتوں کا تناسب ایک اور پینتس جبکہ ہمارے ہاں یہ بمشکل ایک اور آٹھ کا ہے یعنی سپاہیوں کے ساتھ ساتھ افسران وہ بھی میجر جنرل اور لیفٹینٹ جنرل تک کے عہدوں کے حامل افسران بھی ہموطنوں پہ نثار ہونے میں کسی ہچکچاہٹ یا خوف کا شکار نہ ہوئے۔نادان انہیں طعنے مارتے ہیں ملک کھانے کے، سپاہی سے لیکر میجر تک کے کتنے ہی ریٹائرڈ لوگ ہمارے گرد بستے ہیں جو اپنی جوانی کے بہترین ایام وطن کی خاطر قربان کر کے آج سیکیورٹی گارڈ وغیرہ کی نوکریاں یا کریانے کی ،،ہٹیاں،، ڈال کر گزارا کر رہے،کوئی پلاٹ ہے نہ گاڑی اور بنک بیلنس کبھی ان کے لبوں سے ناشکری یا وطن سے بیزاری کا ایک لفظ تک نہیں نکلتا۔سپاہیوں کا تو ذکر ہی کیا کبھی کسی کرنل یا برگیڈیئر کی تنخواہ اور سول جج کی تنخواہ کا موازنہ کریں کسی برگیڈیئر اور کور کمانڈر کے ساتھ ہائی کورٹ کے جسٹس اور آرمی چیف کے ساتھ چیف جسٹس کی تنخواہ کا مقابلہ کریں تو احساس ہو کہ ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر گرم معرکوں میں ساتھیوں کی شہادتیں اور معذوریاں دیکھنے اور سہنے والے افسروں اور جوانوں کو قوم کس بھاؤ تول رہی ہے۔دشمن اپنے کھوٹے سکوں کو درہم و دینار اور سونے کی اشرفیاں ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہم اپنے ہیروں کو پتھر اور بجری گردان بیٹھے۔
لیلائے وطن پہ تن من نچھاور کرتے ان پاک نفوس کی قدر اور ان کے اہل خانہ سے حسن سلوک ہی وہ واحد عمل ہے جس سے دشمن اور ہمارے درمیان خون کی مقدس حفاظتی خلیج قائم اور گہری ہوتی جائے گی یا خوشی خوشی فنا کے گھاٹ اترنے والے ان اجساد خاکی کی دیوار ذولقرنین مضبوط ہو گی جو ہمارے اور ہماری تہزیب و تمدن کے دشمن یاجود ماجود کے درمیان حائل ہے۔خدارا خون کی اس خندق کو پاٹنے اور دیوار ذولقرنین کو دشمن کے پراپیگنڈے کا شکار یا اپنے سیاسی پنڈتوں کو مسند اقتدار پہ سرفراز کرنے کی خاطر ڈھانے سے باز رہیں کہ بار بار نعمت خداوندی کی ناقدری کرنے والوں کو تاریخ پچھتاوے کا موقع بھی نہیں دیتی۔
انڈیا امریکہ یا اسرائیل کے مکروہ گیت گا اور ان پالتو ٹٹو بننے سے بہتر نہیں کہ آدمی اپنی دھرتی اور اپنی فوج کا ایجنٹ کہلوائے۔