خونِ شہداء￿ کی خوشبو – اورکزئی کے آپریشن کا پیغام

 عمران مغل 
اورکزئی کی سرزمین ایک بار پھر اپنے بیٹوں کے خون سے سرخ ہوئی۔ وہ بیٹے جو اس وطن کی بقا کے محافظ تھے، جنہوں نے رات کے اندھیروں میں دشمن پر جھپٹ کر وہ عہد نبھایا جو انہوں نے سبز ہلالی پرچم سے کیا تھا۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں 11 جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے قوم کے سر فخر سے بلند کر دیے۔
یہ کوئی عام واقعہ نہیں۔ یہ اس قوم کی جنگ ہے جو دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف ایک مستقل مورچے پر کھڑی ہے۔ اورکزئی میں ہونے والا حالیہ آپریشن محض عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے — اس نظریے کے خلاف جو نفرت، بغاوت اور تباہی کا دوسرا نام ہے۔ دشمن جان لے کہ پاکستان کے سپاہی صرف وردی نہیں پہنتے، وہ ایک عہد، ایک ایمان اور ایک نظریے کے امین ہیں۔لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت جیسے افسران نے قیادت کا وہ معیار پیش کیا جس پر پوری قوم ناز کر سکتی ہے۔ ان کے ساتھ شہید ہونے والے نو جوان وہ گمنام ہیروز ہیں جن کی مائیں آج آنسوؤں میں مسکرا رہی ہیں — کیونکہ ان کے بیٹے وطن کے لیے قربان ہوئے۔ یہ قربانیاں بتاتی ہیں کہ پاکستان کا وجود کسی طاقت کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ اپنے شہداء￿  کے لہو سے قائم ہے۔دہشتگردی کے اس تازہ زخم نے ہمیں ایک بار پھر یاد دلایا کہ امن کے چراغ جلائے رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو اپنی جان دینی پڑتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ لمحہِ غور بھی ہے — کیا ہم، بطور قوم، ان قربانیوں کی قدر کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے شہداء￿  کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے متحد ہیں؟دہشتگرد اب صرف پہاڑوں اور غاروں میں نہیں، بلکہ بیانیوں میں بھی چھپے بیٹھے ہیں۔ ہمیں بطور قوم ہر اس سوچ کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو ریاست کو کمزور کرتی ہے۔ شہداء￿  کی قربانیوں کا سب سے بڑا احترام یہی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اس ملک کے دفاع، ترقی اور استحکام کے لیے ایک صف میں کھڑے ہوں۔اورکزئی کے پہاڑ آج خاموش نہیں، وہ گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان ابھی زندہ ہے، اس کے سپاہی ابھی جاگ رہے ہیں، اور اس کی مائیں ابھی بیٹے جَن رہی ہیں۔ یہ ملک اپنے ہر زخم سے اور مضبوط ہو کر ابھرتا ہے — کیونکہ شہید کبھی مرتے نہیں، وہ زندہ رہتے ہیں اپنے وطن کے ضمیر میں، اپنے پرچم کے رنگ میں، اور اس قوم کی دعاؤں میں۔