سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
چین نے1956-57میں اس علاقے سے گزرنے والی ایک اہم فوجی سڑک تعمیرکی،جس نے سنکیانگ کوتبت سے جوڑدیاجس سے اس کی عسکری برتری مستحکم ہوئی۔یہ اقدام نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھابلکہ اس نے چین کی اس علاقے پرگرفت کوبھی مضبوط کردیا اوربھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔چین نے تنازع کے حل کیلئے ایک عملی تجویز پیش کی کہ اکسائی چن اسے دے دیاجائے اور بھارت اکسائی چن کوتسلیم کرلے اوربدلے میں چین اروناچل پردیش پراپنے دعوے سے دستبردارہوجائے گامگربھارت نے اسے اپنی خود مختاری کے منافی سمجھتے ہوئے مستردکردیاجس کے بعدکشیدگی میں اضافہ ہواجوآج شدت اختیارکرچکاہے۔
اس انکارکانتیجہ اکتوبر1962کی جنگ کی صورت میں نکلا،جس کے بعدلداخ کاشمال مشرقی حصہ چین کے کنٹرول میں آگیا، اگرچہ وقتی خاموشی طاری ہوئی،مگرسرحدی تنازع اپنی جگہ برقراررہااورخطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔اس جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کومنجمد کردیا بلکہ خطے کی جغرافیائی سیاست کوبھی یکسر بدل کررکھ دیا۔ بعدازاں1993میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کوتسلیم کرنے کامعاہدہ ایک عارضی سکون کاباعث بنا،لیکن2019میں بھارت کی جانب سے جموں وکشمیرکی آئینی حیثیت کی تبدیلی نے اس توازن کوایک بارپھرتہ وبالاکردیاجس پرچین کے شدید ترین ردعمل نے اس اقدام کواپنی علاقائی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔
یہ تمام پیش رفتیں اس امرکی غمازی کرتی ہیں کہ کشمیرکاتنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے،ایسامرحلہ جہاں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید گہرا اور بامعنی ہو سکتا ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان بھی ابتدامیں سرحدی اختلافات موجود تھے۔ 1959میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کوچین نے سرد مہری سے لیا،کیونکہ اس وقت اس کی ترجیح بھارت تھا۔تاہم وقت کے ساتھ حالات بدلے۔ایوب خان اورچینی قیادت کے درمیان سفارتی روابط نے اس جمودکوتوڑا،ایوب خان کی قیادت میں دونوں ممالک نے باہمی احترام کی بنیاد پرمسائل کوحل کرنے کیلئے ایک متوازن سفارتی حکمت عملی اپنائی،اورمضبوط اعتمادسازی کی فضاقائم کرنے کی جامع پالیسیاں تشکیل دیں۔اقوام متحدہ میں چین کی نمائندگی کے معاملے پرپاکستان کی حمایت نے بھی دونوں ممالک کوقریب لانے میں اہم کرداراداکیا۔
بالآخر12اکتوبر1962کوباقاعدہ مذاکرات کاآغازہوا۔ابتدائی اختلافات کے باوجوددونوں فریقین نے حقیقت پسندی کامظاہرہ کیااورایک قابلِ قبول حل کی طرف پیش رفت کی۔جن میں چین نے ابتدائی طورپرکچھ علاقوں پردعویٰ کیامگربعد ازاں پاکستان کے مؤقف کوتسلیم کرتے ہوئے معمولی ترامیم پراتفاق کیا۔2مارچ1963کوبیجنگ میں تاریخی معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ قراقرم واٹرشیڈپرمبنی تھااوراس میں قراقرم واٹرشیڈکوبنیادبنایاگیا،اوردونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے اپنی سرحدوں کاتعین کیا۔یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے تعلقات کونئی بنیادفراہم کی۔
پاکستان اورچین کے درمیان طے پانے والامعاہدہ ایک عارضی انتظام کے طورپربھی دیکھاگیا،جس میں یہ شرط شامل تھی کہ اگرکشمیر کامسئلہ کسی حتمی حل کی طرف بڑھتاہے توسرحدی حدبندی کاازسرنوجائزہ لیاجاسکتاہے۔معاہدے میں یہ واضح کیاگیاکہ یہ ایک عبوری انتظام ہے اورجموں وکشمیرکے حتمی حل کی صورت میں اس کاازسرنوجائزہ لیاجاسکتاہے۔اس معاہدے میں واضح کیاگیاکہ یہ جموں و کشمیرکی حتمی حیثیت پراثراندازنہیں ہوگا،بلکہ ایک عبوری انتظام ہے۔یہ شق اس معاہدے کی دوراندیشی کامظہراوربصیرت کامنہ بولا ثبوت ہے۔
پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے مفادات کاتحفظ کرتے ہوئے ایک انچ زمین دیئے بغیر750مربع میل علاقہ حاصل کیایہ معاہدہ محض سرحدوں کی حدبندی نہیں تھابلکہ ایک فکری ہم آہنگی کامظہرتھا۔پاکستان نے اپنے تاریخی حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے شمشال پاس کے پار واقع چراگاہی علاقوں کوبھی اپنے نقشے میں شامل کروایا،جوصدیوں سے ہنزہ کے باشندوں کے زیراستعمال تھے۔یہ چین کی جانب سے ایک غیرمعمولی لچک کااظہاراورچین کی فراخ دلی کامظہرتھا۔
یہی وہ لمحہ تھاجب پاکستان اورچین کے تعلقات نے ایک نئی کروٹ لی۔یہ معاہدہ نہ صرف سرحدی تنازع کے حل کی ایک مثال بنابلکہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اورہم آہنگی کی ایک مضبوط بنیادبھی فراہم کی۔1963کاپاک-چین سرحدی معاہدہ محض ایک جغرافیائی سمجھوتہ نہ تھا،بلکہ ایک ایسی سفارتی حکمت عملی کامظہر تھاجس نے خطے میں طاقت کے توازن کونئی شکل دی۔اس معاہدے کے بعدچین نے نہ صرف پاکستان کے مقف کی بھرپوراورجاندارتائیدکی بلکہ کشمیرکے مسئلے پربھی اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیارکی جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماداورہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔
بھارت نے اس معاہدے کویکسرمستردکردیااوراسے غیر قانونی قراردیا،یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پوراکشمیراس کااٹوٹ انگ ہے۔مگر پاکستان کے وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹونے اس مؤقف کونہایت مدلل اندازمیں ردکیا۔بھٹو نے اس معاہدے میں کلیدی کرداراداکیااورچین کے ساتھ تعلقات کوایک نئی جہت دی،جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی آئی۔ان کی سفارتی بصیرت نے پاکستان کوایک نئی سمت دی اورچین کے ساتھ تعلقات کومضبوط بنیادوں پراستوارکیا۔انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرایک متنازع خطہ ہے جس کا مستقبل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے ہوناچاہیے،نہ کہ یکطرفہ دعووں کے ذریعے۔
آج جب ہم موجودہ عالمی منظرنامے پرنظر ڈالتے ہیں تویہ واضح ہوتاہے کہ کشمیرکا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔بھارت کی جانب سے5 اگست2019کوآئینی تبدیلیاں،چین کاردعمل،اورپاکستان کانیانقشہ ،یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہاہے۔ایسے میں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیایہ تنازع یکطرفہ اقدامات سے حل ہوسکتاہے؟یا اس کیلئے ایک جامع، منصفانہ اورباہمی طورپرقابلِ قبول حل کی ضرورت ہے؟
بطورایک کشمیری نژادپاکستانی،یہ سوال میرے لیے محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ ایک ذاتی احساس کادرجہ رکھتاہے۔میں نے اپنی کئی ذاتی ملاقاتوں میں مرحوم اے جی نورانی جیسے دانشوروں سے جوکچھ سیکھا،وہ یہ ہے کہ تاریخ کے فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ شواہد،اصولوں اورانصاف کے تقاضوں سے کیے جاتے ہیں۔یہ امرقابلِ غورہے کہ چین نے1963 سے2008کے درمیان اپنے تقریبا تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کوبڑی حد تک حل کرلیامگربھارت اوربھوٹان کے ساتھ اس کے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ مسئلہ صرف سرحدوں کانہیں بلکہ سیاسی ارادوں کابھی ہے۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تنازعات کاحل صرف تاریخی دعووں یاعسکری طاقت سے نہیں بلکہ باہمی مفاہمت،لچک اورحقیقت پسندی سے ممکن ہوتاہے۔
آج جب ہم اس تمام تاریخی پس منظرکودیکھتے ہیں توایک سوال ہمارے سامنے ابھرتاہے:کیایہ تنازعات یکطرفہ اقدامات سے حل ہوسکتے ہیں؟یااس کیلئے باہمی مفاہمت،لچک اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے؟تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ پائیدارامن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین اپنے اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ کرمشترکہ مستقبل کی طرف بڑھیں۔شایدیہی وہ راستہ ہے جوجنوبی ایشیا کوایک نئے دورِاستحکام کی طرف لے جاسکتاہے۔
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کودہرانے کے بجائے مستقبل کی راہوں کوہموارکریں۔چین اورپاکستان نے1963میں جس بصیرت کامظاہرہ کیا،وہ آج بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔اگربھارت بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے توبعیدنہیں کہ یہ خطہ ایک نئے امن،استحکام اورترقی کے دورمیں داخل ہوجائے۔آخرمیں یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ سرحدیں صرف زمین کوتقسیم کرتی ہیں،دلوں کو نہیں۔اگرنیتوں میں خلوص،پالیسیوں میں توازن اورقیادت میں بصیرت ہوتوہرتنازع ایک نئے آغازاورایک بہترکل کاموقع بن سکتاہے۔