دہشت گردی کا خاتمہ، شہداء سے وفا کا تقاضا

 رفیع صحرائی
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت کچھ کھویا ہے۔ ہزاروں شہری، فوجی جوان، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکار وطن کی حفاظت اور قوم کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان خاندانوں کی داستانیں ہیں جن کے پیارے آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔ ان شہدا میں سے ہر ایک کی موت دراصل پاکستان کے امن کے لیے دی جانے والی قربانی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے، علاقے یا ادارے کی جنگ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنۃ الخوارج کے 12 دہشت گردوں کا خاتمہ اور گوادر میں کلیئرنس آپریشن کے دوران منیر احمد اور جہانزیب کی شہادت ایک بار پھر ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وطن کے محافظ کس طرح اپنی جانوں کی قیمت پر ہماری زندگیوں کو محفوظ بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جوان جن کے گھروں میں بھی مائیں، باپ، بہنیں، بھائی، بیویاں اور بچے ان کے منتظر ہوتے ہیں، جب وطن کی پکار پر گھر سے نکلتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ واپسی یقینی نہیں۔ مگر وہ پھر بھی قدم آگے بڑھاتے ہیں۔
یہ جوان کسی ایک صوبے کے بیٹے نہیں۔ بلوچستان میں شہید ہونے والا جوان بھی پاکستان کا بیٹا ہے، خیبر پختونخوا میں جان دینے والا بھی پوری قوم کا بیٹا ہے اور پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کا شہید بھی پوری قوم کا سرمایہ ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات یقیناً تشویش ناک ہیں۔ سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نیٹ ورکس اور منصوبہ بندی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک ماہ کے دوران بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا خاتمہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہے۔ تاہم یہ جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہتھیار رکھنے والے ہاتھ کو روکنے کے ساتھ اس ہاتھ تک پہنچنا بھی ضروری ہے جو انہیں ہتھیار فراہم کرتا ہے، اس ذہن تک پہنچنا بھی ضروری ہے جو انہیں تیار کرتا ہے اور اس نیٹ ورک کو بھی توڑنا ضروری ہے جو انہیں مالی وسائل، پناہ اور نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دہشت گرد کے ساتھ ساتھ اس کے سہولت کار کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جو شخص دہشت گرد کو پناہ دیتا ہے، مالی مدد فراہم کرتا ہے، اسلحہ پہنچاتا ہے، معلومات فراہم کرتا ہے یا اس کی نقل و حرکت میں معاون بنتا ہے،
 وہ بھی قومی سلامتی کے خلاف جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
بلوچستان کی اہمیت محض جغرافیائی اعتبار سے نہیں۔ گوادر، معدنی وسائل، اقتصادی منصوبے اور پاکستان کی علاقائی تجارت میں اس صوبے کا کردار اسے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ دشمن قوتیں اگر بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو ان کا مقصد صرف چند حملے کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کو نقصان پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں امن دراصل پاکستان کی معیشت، سلامتی اور قومی وحدت کا مسئلہ ہے۔
یہاں ریاست کے ساتھ معاشرے کی ذمہ داری بھی شروع ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کی آنکھ اور کان بھی اہم ہیں۔ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع، دہشت گردوں کے بیانیے کو مسترد کرنا، نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانا اور قومی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر اختلافِ رائے کو قومی تقسیم کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، سیاسی جماعتیں مختلف ہو سکتی ہیں، انتخابی منشور الگ ہو سکتے ہیں، مگر پاکستان سب کا مشترکہ وطن ہے۔ دہشت گرد کسی سیاسی جماعت، صوبے یا حکومت کو نشانہ نہیں بناتا، اس کا نشانہ پاکستان ہوتا ہے۔
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم دہشت گردی کو صرف سیکیورٹی فورسز کا مسئلہ سمجھتے ہیں یا اسے پاکستان کا قومی مسئلہ مانتے ہیں۔ بے شک یہ پوری قوم کی جنگ ہے جس کے لیے قوم کو پوری قوت کے ساتھ متحد ہونا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ، سیکیورٹی ادارے، علماء، میڈیا، تعلیمی ادارے اور عام شہری سب کو ایک مشترکہ قومی بیانیے کے تحت دہشت گردی کو مسترد کرنا ہوگا۔
منیر احمد، جہانزیب اور ان جیسے ہزاروں شہدا نے اپنی جانیں اس لیے قربان نہیں کیں کہ ہم چند دن سوگ منائیں اور پھر سب کچھ بھول جائیں۔ ان کا خون ہم سے عہد مانگتا ہے۔ ایسا عہد جس میں دہشت گردی کے خلاف کوئی ابہام نہ ہو، دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کے لیے کوئی نرم گوشہ نہ ہو اور پاکستان کے امن کے معاملے پر قوم تقسیم نہ ہو۔
دہشت گردوں کی ہلاکت یقیناً کامیابی ہے، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب دہشت گردی کی سوچ، اس کے نیٹ ورک، مالی وسائل، سہولت کار، پناہ گاہیں اور بھرتی کے مراکز بھی ختم ہو جائیں گے۔ جب پاکستان کے کسی شہر، گاؤں، بازار، مسجد، اسکول یا سڑک پر کسی ماں کو اپنے بیٹے کے واپس نہ آنے کا خوف نہیں ہوگا۔
شہدا کے خون کا بہترین خراج یہی ہے کہ ہم متحد ہو جائیں۔ دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔ کیونکہ یہ جنگ کسی ایک صوبے کی نہیں، پورے پاکستان کی جنگ ہے؛ یہ کسی ایک ادارے کی نہیں، ہم سب کی جنگ ہے۔ اور جس قوم کے بیٹے اپنے خون سے وطن کی حفاظت کر رہے ہوں، اس قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ان کے ساتھ کھڑی ہو۔
شہدا کا خون ہمیں پکار رہا ہے: اتحاد اختیار کرو، دہشت گردی کو شکست دو اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بناؤ۔