غزہ جنگ بندی معاہدے کے تیسرے مرحلے کے دوران، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک اور اسرائیلی خاتون فوجی، اگم برگر، کو رہا کر دیا ہے۔
یہ رہائی جبالیہ کے علاقے میں ہوئی، جو حماس کے شہید رہنما یحییٰ سنوار کے گھر کے قریب واقع ہے۔ حماس نے اس رہائی کو جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر انجام دیا۔رہائی کے بعد اگم برگر کو فلاحی تنظیم ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، جو انہیں اسرائیلی حکام تک پہنچانے کے لیے لے گئی۔ کچھ دیر بعد اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگم برگر اسرائیل پہنچ چکی ہیں۔اس رہائی کے تحت فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 8 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق 110 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا جانا ہے، جو اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہیں۔ یہ واقعہ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے درمیان ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے دونوں طرف کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔یہ جنگ بندی معاہدہ حالیہ دنوں میں کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، اور اس کے تحت مزید قیدیوں کی رہائی کی توقع کی جا رہی ہے۔