ویب ڈیسک: اسرائیلی محاصرے کے باعث غزہ میں غذائی قلت شدید تر ہو گئی ہے، جہاں بھوک کی شدت سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 10 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، اکتوبر 2023ء سے اب تک غذائی قلت سے جاں بحق افراد کی تعداد 111 ہو چکی ہے۔
امدادی سامان سرحد پر، لیکن غزہ داخلے کی اجازت نہیں
بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے غزہ میں خوراک کی شدید کمی پر عالمی برادری کو فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔امدادی ایجنسی اُنروا (UNRWA) کے مطابق اردن اور مصر کی سرحدی کراسنگز پر ہزاروں ٹن امدادی سامان موجود ہے، لیکن اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث یہ سامان غزہ نہیں پہنچ رہا۔اُنروا نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دروازے کھولے اور انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے دے۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
اقوام متحدہ نے غزہ کی صورتحال کو ایک "ہولناک انسانی بحران" قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امداد کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
جنگ بندی کی پیش رفت
ادھر فلسطینی تنظیم حماس نے موجودہ تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی تجاویز پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق حماس نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر کے اسے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے حوالے کر دیا ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ اب فیصلہ اسرائیل پر ہے کہ وہ اس معاہدے کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔
پس منظر
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل-حماس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ خوراک، پانی اور ادویات نہ ہونے کے باعث غزہ کے شہری بدترین بحران سے گزر رہے ہیں۔