سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری نے پیکا ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسے جمہوریت اور بنیادی حقوق کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانون اصلاحی تنقید کو دبانے کے لیے ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کا باعث بن رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اربابِ اختیار اپنی ناہلی اور ناکامیوں پر سوالات اٹھانے سے خوفزدہ ہیں اور اسی خوف کے تحت صحافتی برادری کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے صحافتی برادری کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا آزاد ہونا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے کیونکہ آزاد صحافت کسی بھی ملک کا آئینہ ہوتی ہے۔علامہ ناصر عباس جعفری نے صحافیوں کے پُرامن احتجاج پر ریاستی تشدد کی مذمت کی اور اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیکا ترمیمی ایکٹ کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت، جو "فارم 47" کے تحت کام کر رہی ہے، اپنی آمرانہ سوچ کو ظاہر کر رہی ہے اور ان کے اقدامات جمہوریت اور آئین کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا استحکامِ جمہوریت اور آئین پر دہرا مؤقف اب واضح ہو چکا ہے۔