لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سینیٹر اعظم خان سواتی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
یہ ضمانت سنگجانی جلسہ کیس میں دی گئی ہے، جس کا مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج تھا۔سماعت کے دوران، جسٹس صداقت علی کی سربراہی میں عدالت نے وکلاء صفائی بابر اعوان، سہیل خان، اور عثمان علی کے دلائل سنے۔ وکلا نے یہ موقف اپنایا کہ اعظم سواتی کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما کی 8 مختلف مقدمات میں ضمانت منظور کی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اس وقت کہا تھا کہ ان مقدمات میں سواتی کے خلاف کوئی مضبوط شواہد نہیں تھے، اس لیے ان کی ضمانت منظور کی گئی۔اعظم سواتی کی ضمانت کی مخالفت پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کی تھی، تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔اب لاہور ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت منظور کر لی ہے، جس کے بعد وہ جیل سے رہائی پائیں گے۔