بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دینے سے عدالت عظمیٰ کا وقار بلند ہوا ہے:اعظم سواتی

بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دینے سے عدالت عظمیٰ کا وقار بلند ہوا ہے:اعظم سواتی

پشاور: پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کا بانی پی ٹی آئی کی ضمانت پر ردعمل، عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو انسانی حقوق کی جیت قرار دیدیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ضمانت ملنے کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ کے وقار اور انسانی حقوق کی فتح ہے۔پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی عدالتیں حق اور انصاف پر مبنی فیصلے دے رہی ہیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے پر وہ ان کے مشکور ہیں اور جلد ملاقات کی کوشش کریں گے۔

اعظم سواتی نے شبلی فراز کے حوالے سے کہا کہ ان کی نشست کو خالی چھوڑا جائے گا تاکہ ان کی عزت برقرار رہے، انہیں نااہل کرنا درست فیصلہ نہیں تھا اور پی ٹی آئی کسی بھی کمپرومائز کو قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جس کو بھی سزا دی گئی، پی ٹی آئی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ علیمہ خان کے بیٹے کی گرفتاری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی کارروائی ناقابلِ قبول ہے، اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

کیس کی سماعت
قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں اعظم سواتی کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل علی عظیم آفریدی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ اعظم سواتی کا نام پہلے ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، جسے عدالت کے حکم پر نکالا گیا، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔جسٹس وقار احمد نے استفسار کیا کہ توہینِ عدالت کی درخواست کب سماعت کے لئے مقرر ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کیا گیا ہے اور وفاقی حکومت سے بھی جواب مانگا گیا ہے۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی۔