پنجاب حکومت کارویہ غیرجمہوری احتجاج کرتا ہوں:سہیل آفریدی کا مریم نواز کو خط خیبرپختونخوا کے لوگوں نے ذہنی پستی کا مظاہر ہ کیا:سپیکر اسمبلی
جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اور بین الصوبائی عزت کو خراب کیا گیا، جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور پر ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہیں تھا،توقع رکھتا ہوں آئندہ ایسا نہیں کیا جائیگا
پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے‘دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کی روایات اور استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے، خیبر پختونخوا میں کسی کو اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیا جائے:اسمبلی میں خطاب‘خط کا متن
پنجاب اسمبلی کوئی عام جگہ نہیں جہاں کوئی بھی بلا اجازت داخل ہو سکے۔‘ کسی کو قانون، پالیسی یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو ایوان کے اندر بات کی جائے، گھیراؤ جلاؤ، بدتمیزی اور تشدد کسی کا سیاسی حق نہیں ہو سکتا:ملک احمد خان کی پریس کانفرنس
پشاور( آن لائن‘آئی این پی ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے روئیے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے غیر جمہوری اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔ اْنہوں نے کہا پنجاب حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے وفود اور کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مسلسل راستے بند کرنے کے اقدامات کیے گئے۔وزیراعلیٰ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس نے موٹروے پر ریسٹ ایریاز بند کروائے اور مزار اقبال کی حاضری کے دوران لائٹس بند کروائی گئیں ۔ اْن کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اخلاقی اور ذہنی پستی کا مظہر ہیں اور ملک میں موجود معاشی و سیاسی عدم استحکام کے دوران اس طرح کے رویّے ناقابل فہم اور تشویشناک ہیں ۔وزیراعلیٰ نے صوبائی افسروں کو ہدایت کی کہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کی روایات اور استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے اور خیبر پختونخوا میں کسی کو اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیا جائے۔سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی پر بھی شدید اعتراض کیا۔ اْن کے مطابق فنڈز کی بروقت عدم ادائیگی کے باعث ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت متاثر ہو رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے 4,758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب ادا ہیں اور وفاقی وزارتِ خزانہ نے من گھڑت پروپیگنڈا کے ذریعے فسکل ریلیز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوششیں کی ہیں۔وزیراعلیٰ نے صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکومت سے بقایاجات کی تفصیل طلب کریں اور اگلے اجلاس میں صوبائی کابینہ کو بقایاجات کے حوالے سے مکمل بریفنگ دیں ۔ اْنہوں نے صوبائی افسران سے یہ بھی کہا کہ تمام محکمے باضابطہ خطوط لکھیں اور تحریری جوابات فراہم کریں تاکہ مالی معاملات شفاف ہوں اور ترقیاتی منصوبے متاثر نہ ہوں۔دریں اثناء ا سہیل آفریدی نے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اور بین الصوبائی عزت کو خراب کیا گیا۔اپنے خط میں سہیل آفریدی نے کہا کہ جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور پر ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہیں تھا، میرے دورے کے دوران جس انداز میں معاملات کو ڈیل کیا گیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے چار کروڑ لوگوں کے نمائندے کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا، مارکیٹیں اور عوامی مقامات کو بند کرکے لاہور کے شہریوں کو تکلیف دی گئی، موٹر وے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا، میرے دورہ سے متعلق میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ سب منشیات سمگلنگ تک سے جوڑا گیا اوریہ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، ایسے رویے اور انداز سے میری شخصیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، جسے کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سہیل آفریدی نے اپنے خط میں مزید کہا کہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طریقوں سے ریاستی یونٹس میں ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں خط کے ذریعے اس انداز اور طور طریقوں پر بھرپور احتجاج کرتا ہوں، توقع رکھتا ہوں کہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان سے اجتناب برتا جائے گا۔
دوسرا انٹرو لیڈ
لاہور ( سپیشل رپورٹر)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے پنجاب اسمبلی کا ہر عمل آئین، قانون اور قواعد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے اور ایوان کو کسی صورت غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل یا بدنظمی کا نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی اولڈ بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے واضح کیا اسمبلی میں داخلے، مہمانوں کی آمد اور سکیورٹی سے متعلق واضح ایس او پیز موجود ہیں جن پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پنجاب اسمبلی آنا چاہتے ہیں، جسے انہوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اصولی طور پر اجازت دی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی میں داخلے کے لیے مہمانوں کے ناموں کی فہرست اور شناختی کارڈ کی فراہمی لازمی ہوتی ہے، کیونکہ پنجاب اسمبلی ریڈ زون میں واقع ایک حساس ادارہ ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے افراد کو اسمبلی لایا گیا جن کے نام مہمان لسٹ میں شامل نہیں تھے اور بعض افراد ماضی میں دنگا فساد، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آنا پڑتا ہے اور اس طرزِ عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات پر بھی ہلڑ بازی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں عبادت کے سوا کسی اور سوچ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف مقدس مقامات بلکہ ریاستی اداروں اور جمہوری ایوانوں کے تقدس کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ہنگامہ آرائی اور لڑائی جھگڑے کے واقعے پر انکوائری کمیٹی قائم کرنے اور اس کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی خلاف ورزی اسمبلی کے انٹری گیٹ پر ہوئی، جہاں قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں، تاہم اس کے لیے برداشت، مکالمہ اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کوئی عام جگہ نہیں جہاں کوئی بھی بلا اجازت داخل ہو سکے۔ اگر کسی کو قانون، پالیسی یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو ایوان کے اندر بات کی جائے، گھیراؤ جلاؤ، بدتمیزی اور تشدد کسی کا سیاسی حق نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر بہن بیٹیوں کے خلاف نازیبا زبان، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔