11سیشنز ،28 بل منظور ،اہم قانون سازی کوئی پرائیویٹ بل کارروائی کا حصہ نہ بن سکا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) 2024میں قومی اسمبلی اجلاسوں میں پارلیمان کی بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلاتی رہیں ۔ اس دوران بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے ا ستعفٰی بھی دیا جبکہ قومی اسمبلی کے 11سیشنز کے دوران نواز شریف صرف 3 بار ایک بار وہ وزیر اعظم کے انتخاب دوسری بار سپیکر اور تیسری بار 26ویں آئینی ترمیم کی رائے شماری کے موقع پر ایوان میں آئے ،اب تک کے سیشنز میں 28حکومتی بل منظور ہوئے جبکہ کوئی پرائیویٹ بل کارروائی کا حصہ نہ بن سکا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اپوز یشن کے شور شرا بے کے باوجود تحمل سے بجٹ پیش کیا ، اجلاسوں کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی ایوان میں گرفتاری ان پر تشدد اور گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر سپیکر پر دبائو اور شور مچاتی رہی۔ایوان میں خواجہ آصف ،رانا تنویر ، اسد قیصر ،عمر ایوب ،محمود خان اچکزئی ،مولانا فضل الرحمن ،نوید قمر ،آغا رفیع اللہ ، حنیف عباسی ،نثار جٹ ، زر تاج گل نے تقاریر میں اپنی اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مخا لفین کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔دلچسپ بات یہ رہی کہ 40فیصد حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے خود کو ''YESاورNOتک محدود رکھا باقی کارروائی پر خاموش رہے۔ قومی اسمبلی کا پارلیمانی سال 29فروری 2024کو شروع ہوااس دوران سب سے طویل سیشن 9ویں اور 10ویں رہے اس دوران اہم قانون سازی کے لئے اجلاسوں کے شیڈول اور وقت بھی تبدیل کئے جاتے رہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دو دن اور ایک رات مسلسل اجلاس جاری رہا اجلاس کے دوران ارکان نے بڑے ذو معانی جملوں کا بھی استعمال کیا ، حنیف عباسی نے پی ٹی آئی ا ور اس کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی قیادت کو امی، ابو کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ امی کے بچے ان سے 20سال بڑے ہیں، پیپلز پارٹی جو حکومت کی بڑی حلیف جماعت ہے نے بھی وزرا، وزرامملکت اور پارلیمانی سیکرٹریز کی ایوان میں عدم موجودگی پر ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اس سے قبل بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی بھی ا یوان سے واک آئوٹ کرتی رہی ۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی قطار سمیت تینوں وزرا کی خالی نشستوں کو دیکھ کر اپوزیشن کی تنقید اور نشاندہی پر وزرا واراکین کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر فون کھڑکتے رہے تاکہ کورم پورا ہو سکے۔پارلیمانی کیلنڈر کے تحت قومی اسمبلی کے 19 دسمبر تک ہونے والے اجلاس میں109دنوں کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، قواعد کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس 130ہونا لازمی ہیں اس طرح 21دنوں کے اجلاسوں کی کارروائی باقی ہے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا موجودہ پارلیمانی سال 29فروری 2024سے شروع ہوا جو 28فروری 2025تک جاری رہے گا۔ اس دوران 18ویں سپیکر کانفرنس بھی ہوئی یہ کانفرنس 10سال بعد ہوئی ہے۔