مریم نواز کی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات، 2024 میں نئے منصوبوں کا آغاز

مریم نواز کی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات، 2024 میں نئے منصوبوں کا آغاز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے 2024ء میں انقلابی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔

 ان اقدامات کے تحت صوبائی حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں ہونہار اسکالر شپ، پبلک اسکول ری آرگنائزیشن، ہائر ایجوکیشن انٹرن شپ، چیف منسٹر اسکول نیوٹریشن، لاہور کنڈرگارٹن اسکول اور ہر تحصیل میں گرلز کالجز کے لیے بسوں کا انتظام، بیک ٹو اسکول کمپین، سرکاری اسکولوں میں نئے کلاس رومز اور سائنس و آئی ٹی لیبارٹریز کا قیام شامل ہیں۔مریم نواز نے چین کی طرز پر ابتدائی کلاسز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجوکیشن کے لیے پلان طلب کر لیا ہے، اور صوبے میں پہلی بار ایجوکیشن افسروں کی ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر تعیناتی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، نصاب کی تشکیل، ٹیچرز ٹریننگ اور دیگر امور کے لیے ایک ہی اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔اسکول ایجوکیشن کونسل کی تشکیل نو، لیپ ٹاپ اسکیم، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سولرائزڈ چارجنگ اسٹیشن، نئی یونیورسٹیاں، اور گرین اسکول پروگرام کا آغاز بھی متوقع ہے۔ مزید برآں، اسکول ہاکی لیگ اور پاکستان کا سب سے بڑا ’’اسکول اولمپکس‘‘ کروانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

صوبے میں 76 گرلز کالجز کے لیے بسوں کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور پبلک اسکولز ری آرگنائزیشن پروگرام سے 40 ارب روپے کی بچت اور 70 ہزار نوجوانوں کے لیے روزگار کا بندوبست کیا گیا ہے۔ پنجاب کے پی ایس آر پی اسکولوں میں 5 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب، پنجاب میں اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے طلبہ کی تعداد میں کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے، اور ڈی پی ایس ماڈل ٹاؤن میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔پنجاب کے سرکاری کالجوں میں 7354 کالج ٹیچرز انٹرنز کی بھرتی مکمل ہو چکی ہے جنہیں 6 ماہ تک 50 ہزار روپے ماہانہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ کے 3527 اسکولوں میں 4 لاکھ سے زائد طلبہ کے لیے غذائیت سے بھرپور دودھ پیک کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تعلیمی بورڈ کے پوزیشن ہولڈرز کے لیے لاکھوں روپے کے انعامات اور تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا اعلان کیا ہے، اور ہونہار اسکالر شپ کی رقم 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی ہے۔ علاوہ ازیں، طلبہ کو ایک لاکھ ای بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی۔مریم نواز نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہر بچے کو بہترین اور جدید علوم حاصل کرنے کا پورا حق ہے، اور بچوں کی تعلیم کے لیے وسائل کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ نظام تعلیم میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں اور بہتری لائیں جائیں گی۔