پاکستان کی نہ تو تاریخ ہے اور نہ ہی جغرافیہ ہے :مولانا محمد خان شیرانی

امت مسلمہ کا مجموعی کردار قول و فعل، زبان و دل، ظاہر و باطن ‘ آج اور کل میں تضاد پر مبنی ہے

کوئٹہ(آن لائن)رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ مملکت کی تاریخ بھی ہوتی ہے اور متعین جغرافیہ بھی ہوتا ہے پاکستان کی نہ تو تاریخ ہے اور نہ ہی کوئی جغرافیہ ہے ‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن کے زیر صدارت منعقد ہونے والے قبائلی مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دوسرے جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کے سطح پر طے کیا گیا کہ اگر ہم براہ راست حکومت کے بجائے نیابتی حکومتیں تشکیل دیں تو اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ مقامی عوام یہ نہیں سوچیں گے کہ ان کے اوپر اجنبی لوگوں کی حکومت ہے اس صورت میں یہ بھی نہیں ہوگا کہ زحمت ہم اٹھائیں اور خدمت بیگانہ مقامی لوگوں کا کریں‘ انہوں نے کہا  امت مسلمہ کا مجموعی کردار قول و فعل، زبان و دل، ظاہر و باطن اور آج اور کل میں تضاد پر مبنی ہے یہاں کمزور مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں اور طاقتور خونخوار درندے ہوتے ہیں اس کردار کے انسان دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات سے محروم ہوتے ہیں اگر ہم نے اپنے انجام کو تبدیل کرنا ہے تو اس کیلئے ہمیں اپنے کردار کو تبدیل کرنا ہوگا کردار میں تبدیلی کئے بغیر اس کے انجام کو بدلنے کی خواہش نامعقول اور ناممکن ہے -