قومی اسمبلی‘سندھ اسمبلی بھارتی وزیردفاع کیخلاف قراردادیں منظور سندھ پاکستان کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے:ارکان
قومی اسمبلی میں قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اسلم عالم نیازی نے پیش کی‘ بھارتی وزیر دفاع کا بیان قابل مذمت اور پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے‘ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے:قرارداد کا متن
قومی اسمبلی میں مختلف قومی امور پر بحث، قراردادوں کی منظوری اور اہم قانون سازی کی گئی‘ مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کیلئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے دعا کرائی
اسلام آباد‘کراچی(آئی این پی‘آن لائن )قومی اسمبلی میں بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کردی گئی اور کہا گیا سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اسلم عالم نیازی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق بیان پر مذمتی قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان قابل مذمت ہے اور یہ بیان پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے۔قراردار میں کہا گیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں مختلف قومی امور پر بحث، قراردادوں کی منظوری اور اہم قانون سازی کی گئی۔ اجلاس کا آغاز مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے دعا سے ہوا، جو وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کرائی‘سندھ اسمبلی میں بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے سندھ سے متعلق بیان پر پیپلز پارٹی کے رکن مکیش کمار چاولہ نے مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔حکومت اور اپوزیشن کی مذمتی قراردادوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا پاکستان سے بدترین شکست کھانے کے بعد بھارتی وزیر دفاع بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑبھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، بھارت کوبدترین شکست دلانے والے وزیردفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے، نہ کوئی سندھ کو پاکستان سے الگ کرسکتا ہے اور نہ ہی جغرافیہ بدل سکتا ہے،سندھ متحد اور پاکستان کے ساتھ رہے گا ۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بھی قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ ایوان نے گورنر سندھ کی جانب سے مسترد کردہ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن 2025 ترمیمی بل ایک بار پھر منظور کرلیا۔