اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے ملک خیرات نہیں ٹیکسوںسے چلتے ہیں وزیرخزانہ

ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں جو سب یکدم ٹھیک ہو جائے،معیشت کا پہیہ چلنا شروع، مہنگائی میں نمایاں کمی آ رہی ہے، کوشش ہے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں
بجلی سستی کریں گے‘ہم بجٹ تجاویز لینے کیلئے لوگوں کے پاس جائیں گے‘ہمارے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ملک کی خاطر اکٹھا ہونا پڑے گا: کسانوں اور  سٹیک ہولڈرز سے گفتگو
 کمالیہ (آئی این پی )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے ملکی معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگیا، مہنگائی میں نمایاں کمی آ رہی ہے،کوشش ہے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں،ملک کے مسائل زیادہ ہیں،ملک خیرات سے نہیں ٹیکسز سے چلتے ہیں، ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ سب ایک دم ٹھیک ہو جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، ہمیں پائیدار معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے، ہمیں برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہے۔ کسی کے سہارے پر نہیں خود ترقی کرکے آگے آئے ہیں، ہم اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، ہم بجٹ تجاویز لینے کے لیے لوگوں کے پاس جائیں گے، لوگ بجٹ کے دنوں میں اسلام آباد میں آکر بیٹھ جاتے ہیں جو غلط ہے۔ان کا کہنا تھا ہم ہوائی باتیں نہیں کر رہے جو کہتے ہیں کرکے دکھا رہے ہیں، شرح سود جیسے جیسے کم ہو گی کاروباری لوگوں کے لیے اچھاہو گا، شرح سود کم ہو گی تو ہم بہتری کی جانب جائیں گے، 2025 میں ہم ملکی معیشت کو لے کر مزید بہتری کی جانب جائیں گے، شرح سود کم ہوتی جائے گی اور سنگل ڈیجٹ کی طرف جائے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا مسائل زیادہ ہیں، جادو کی چھڑی نہیں کہ سب ایک دم ٹھیک ہو جائے، معاشی اصلاحات کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز لے رہے ہیں، ہمیں پائیدار معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے، ملک کی خاطر سب اکٹھے ہو جائیں، ملک کی خاطر چارٹر آف اکانومی سمیت تین چار چیزوں پر اکٹھے ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں دربار لگا کر نہیں بیٹھیں گے، تاجر اپنے کام پر توجہ دیں ہم آپ کے پاس خود حاضر ہوں گے، بجٹ کی تیاری میں تجاویز اور مشورے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر کے پاس جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کا آخر ہے، اللہ کے کرم سے جو باتیں کہیں تھیں وہ کر کے دکھائیں، وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں تمام کہیں باتوں پر عمل آیا جس سے معاشی استحکام آیا ہے، اللہ کا شکر ہے مہنگائی کم ہوئی ہے، افراط زر 5 فیصد پر پہنچ گیا، فارن ایکسچینج ریزرو میں بھی اضافہ ہوا ہے‘ معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، مثبت پالیسیوں کی وجہ سے معیشت بہتر ہوئی، ہمارے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر ملک کی خاطر اکٹھا ہونا پڑے گا، یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا، چارٹر آف اکانومی پر سب اکٹھے ہوجائیں، ملک ہے تو ہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ٹیکسیشن، انرجی اور گورنمنٹ کے اداروں میں اصلاحات کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان سے بڑا کوئی ملک نہیں جو خیرات نہ دیتا ہو، خیرات سے تعلیمی ادارے اور ہسپتال چل سکتے ہیں، ملک خیرات سے نہیں چلتے، ملک ٹیکسز سے چلتے ہیں۔