وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت صوبے میں کوئی ایسی ایمرجنسی نہیں جس کے لیے فوج کو بلایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کو سپر فلڈ کے طور پر کنٹرول کیا جا رہا ہے۔وزیر اطلاعات کے مطابق سندھ میں 9 لاکھ کیوسک تک پانی آنے کی توقع ہے اور صوبے کے 15 اضلاع دریائے سندھ کے اطراف واقع ہیں۔ انہوں نے بیراجوں کی گنجائش کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ، سکھر بیراج 9 لاکھ اور کوٹری بیراج 6 لاکھ کیوسک ہے۔ موجودہ ڈیٹا کے مطابق صورتحال چیلنجنگ نہیں ہے، اور اگر مزید بارش نہ ہوئی تو حالات معمول کے مطابق رہیں گے۔شرجیل میمن نے بتایا کہ پانی بیراجوں کی گنجائش کے مطابق ہی آ رہا ہے، اور اس وقت کہیں بھی بند میں شگاف ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ ممکنہ سیلاب کی صورت میں 1657 گاؤں اور 16 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ریلیف کیمپس کے انتظامات کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 551 مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ لائیو اسٹاک کے لیے الگ کیمپس اور 300 مقامات پر مال مویشی کے لیے خصوصی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے شہریوں سے کہا کہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور ہر تین گھنٹے بعد بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کی معلومات پر نظر رکھیں۔ حکومت کی مشینری کچے علاقوں میں موجود ہے اور مقامی لوگ حالات سے زیادہ آگاہ ہیں۔